Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
240 - 662
 اِنکساری پائی جاتی ہے اور سجدے میں بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لیے اپنی عبودیت کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ سجدے میں آدمی اپنے جسم کے سب سے زیادہ قابل احترام حصے یعنی اپنے چہرے کو ایک ادنیٰ سی چیز جسے لوگ اپنے پیروں اور جوتوں تلے روندتے ہیں یعنی مٹی سے آلودہ کرکے ربّ تعالٰی کی بارگاہ میں اپنی حقارت اور پنی ذات کے اَدنیٰ ہونے کا اِظہار کرتا ہے۔ ‘‘  (1)  
سجدہ نماز کے علاوہ بھی عبادت:
سجدوں کی کثرت کے حکم کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ سجدہ بذاتِ خود ایک عبادت ہے جبکہ قیام اور رکوع نماز میں تو عبادت ہیں لیکن نمازکے علاوہ عبادت نہیں ۔مُفَسِّرشہِیر،  مُحَدِّثِ کَبِیْر،  حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ صرف سجدہ بھی عبادت ہے مگر صرف رکوع اور قیام عبادت نہیں بلکہ یہ نماز میں عبادت ہے۔ ‘‘  (2) 
سجدوں کی کثرت کا معنی:
مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی پاک،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سجدوں کی کثرت کا حکم دیاہے اور یہ وہ سجدے ہیں جو اخلاص کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا حاصل کرنےکے لیے کیے جائیں اور ان سجدوں کی ادئیگی نمازوں کی کثرت،  سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر ادا کرکے ہوگی۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اِن سجدوں کی ادائیگی اِس طرح ہوگی کہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لیے کثرت سے نماز ادا کی جائے۔ ‘‘  (3) 
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی نقل فرماتے ہیں : ’’  سجدوں کی کثرت کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز میں کثرت سے سجدے کرو،  سجدۂ تلاوت کرو اور سجدۂ شکر بجالایا کرو۔ ‘‘  (4) 



________________________________
1 -   اکمال المعلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود و الحث علیہ،۲ ‏ / ۴۰۳، تحت الحدیث: ۴۸۸۔
2 -   مرآۃ المناجیح،۲‏ / ۷۹۔
3 -   اشعۃ اللمعات، کتاب الصلاۃ، باب السجود و فضلہ ،۱‏ / ۴۲۵۔
4 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ، باب السجود و فضلہ،۲‏ / ۶۱۶، تحت الحدیث: ۸۹۷۔