صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی دَم کیا کرتے تھے:
حضرتِ سَیِّدُنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ایک قافلہ عرب کے کسی قبیلے میں گیا تو قبیلے والوں نے اُن کی ضِیافت نہ کی، اِسی دوران قبیلے کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، قبیلے والوں نے اہلِ قافلہ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اِس کاٹے کا دَم یا دَوَا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ’’ چونکہ تم لوگوں نے حق ِضیافت ادا نہ کیا اس لیے جب تک ہمارے لیے کچھ مقرر نہ کرو ہم علاج نہیں کریں گے ۔ ‘‘ چنانچہ قبیلے والوں نے کچھ بکریاں دینا منظور کر لیں ۔ پس ایک صحابی نے درد والی جگہ پر اپنا لعاب لگایا اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تودَرد فوراً ختم ہوگیا ۔ پس قبیلے والے مقرر ہ بکریاں لے آئے ۔مگر صحابۂ کرام نے کہا کہ جب تک ہم اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نہ پوچھ لیں اُس وقت تک نہ لیں گے ۔جب حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے معاملہ پیش کیا گیا تو آپ مسکرائے اورفرمایا: ’’ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورۂ فاتحہ سے دَم کیا جاتا ہے؟ بہر حال تم وہ بکریاں لے لو اور میرا حصہ بھی رکھو۔ ‘‘ (1)
نظرکا دَم کرنے کا حکم:
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’ مجھے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم دیا کہ نظر لگنے کا دم کیا کرو۔ ‘‘ (2)
زہریلے جانور کے کاٹے پر دَم کرنا:
حضرتِ سَیِّدُنا عبدالرحمٰن بن اَسْوَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے زہریلے جانور کے کاٹے پر دَم کرنے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہر زہریلے جانور کے کاٹے پر دَم کرنے کی اِجازت مَرحَمَت فرمائی ہے۔ ‘‘ (3)
________________________________
1 - بخاری، کتاب الطب، باب الرقی بفاتحۃ الکتاب، ۴ / ۳۰، حدیث: ۵۷۳۶۔
2 - بخاری، کتاب الطب، باب رقیۃ العین، ۴ / ۳۱، حدیث: ۵۷۳۸۔
3 - بخاری، کتاب الطب، باب رقیۃ الحیۃ والعقرب ، ۴ / ۳۲، حدیث: ۵۷۴۱۔