Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
239 - 662
 دو2بار خاموش رہے۔ تاجدارِ رِسالت،  شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ خاموشی سائل کا شوق بڑھانے کے لیے اور حضرت سَیِّدُنَا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خاموشی سنت پر عمل کرنے کے لیے تھی۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی یہ عادت تھی کہ وہ سرکارِ نامدار،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَداؤں کی نقل کرتے تھے۔ ‘‘  (1) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کثرتِ سجود کے حکم کی حکمتیں 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں نورکے پیکر،  تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کثرت سے سجدے کرنے کا حکم اِرشاد فرمایا۔ شارِحین حدیث نے اس کی کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں ۔چند حکمتیں پیش خدمت ہیں :
سجدوں کی کثرت قُربِ الٰہی کا سبب:
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’  (سجدوں کی کثرت قُربِ الٰہی کا سبب ہے۔)  اِس کی تائید شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ایک دوسرے فرمان سے بھی ملتی ہے جس میں اِرشاد فرمایا:  ’’ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے ربّ کے سب سے قریب ہوتا ہے ۔ ‘‘  اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کی موافقت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان سے بھی ہوتی ہے:  (وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ (۱۹) )   (پ۳۰، العلق:۱۹) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہو جاؤ۔ ‘‘  (2) 
سجدے میں عجزواِنکساری ہے:
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں : ’’ سجدے میں انتہا درجے کی تواضع اور



________________________________
1 -    مرآۃ المناجیح،۲‏ / ۸۵ ماخوذا۔
2 -   شرح مسلم للنووی، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود و الحث علیہ، ۲ ‏ / ۲۰۶، الجزء الرابع ملخصا۔