Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
237 - 662
 بھی نہیں پہنچ سکتا چہ جائیکہ کوئی غیر نبی اور اُمَّتی  اُس تک پہنچے۔
(1)	جنت اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے فضل وکرم اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رحمت سے ہی ملے گی،  البتہ عبادات اور کثرت سجود قرب حاصل کرنے اور درجات کی بلندی میں اضافے کا ذریعہ ہیں ۔
(2)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قُرب اورحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قُرب دونوں لازم و ملزوم ہیں کہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں پائے جاسکتے۔
(3)	بندے کی ربّ سے محبت اور ربّ کی بندے سے محبت دونوں رسولِ خدا،  حبیب کبریاء،  احمد مجتبےٰ محمد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِتباع پر موقوف ہیں ۔
(4)	حضور سید المرسلین،  رحمۃ اللعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایمان،  مال اولاد ،  جنت اور عزت سب کچھ مانگ سکتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے آپ کو یہ تمام چیزیں عطا فرمائی ہیں اور آپ کو اِن کا مالک بنا دیاہے اب آپ جسے چاہیں عطا فرمادیں ۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بڑی بڑی نعمتیں مانگا کرتے تھے۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں جنت میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب عطا فرمائے اور دنیا میں ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس قُرب کو حاصل کرنے میں مُعاوِن ہوں ۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 107 	                                         
ایک سجدہ کرنے کی فضیلت
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ ،  وَیُقَالُ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰن ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:عَلَیْکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ،  فَاِنَّکَ لَنْ  تَسْجُدَلِلّٰہِ سَجْدَۃً اِلَّا رَفَعَکَ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَۃً، وَحَطَّ عَنْکَ بِہَا خَطِیْئَۃً.  (1) 



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الصلاۃ ، باب فضل السجود و الحث علیہ ، ص۲۵۲، حدیث: ۴۸۸۔