تحت تصرف کردیا گیا، جو چاہیں کریں ، جسے جو چاہیں دیں ، جس سے جو چاہیں واپس لیں ، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ، تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے ربّ کے سوا کسی کے محکوم نہیں ، تمام آدمیوں کے مالک ہیں ، جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت سے محروم رہے، تمام زمین اُن کی مِلک ہے، تمام جنت اُن کی جاگیر ہے، ملکوت السمٰواتِ والارض حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے زیرِ فرمان، جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دے دی گئیں ، رزق وخیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں ، دنیا و آخرت حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی عطا کا ایک حصہ ہے، اَحکامِ تشریْعیَّہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے قبضہ میں کر دیئے گئے کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں ۔ ‘‘ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ حسن بن علی ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے تمام خزانوں پر ایسی قدرت عطا فرمائی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جسے چاہیں ، جو چاہیں ، جتنا چاہیں عطا فرمادیں ۔
(2) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے ایسے مالک ومختار ہیں کہ احکامِ شرعیہ میں بھی جس کے لیے جو چاہیں خاص فرمادیں ۔
(3) دنیا وآخرت دونوں میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بادشاہی ہے، جنت اور اس کی تمام نعمتیں تو حضور سرورِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عطا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں ۔
(4) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجنت میں جس مقام پر فائز ہوں گے اس مرتبے پر کوئی نبی عَلَیْہِ السَّلَام
________________________________
1 - بہارشریعت، ۱ / ۷۹، حصہ ۱۔