Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
235 - 662
  پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرما ہوگئے۔  کچھ دیر بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بار گاہ میں ایک کھجوروں سے بھرا ہوا ٹوکرا پیش کیا گیا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  اس شخص  سے فرمایا : ’’  یہ ٹوکرا اٹھالو اور اس کی تمام کھجوریں صدقہ کردو۔ ‘‘  اس نے عرض  کی: ’’   کیا مجھ سے بھی بڑھ کر کوئی فقیر ہے؟  مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کوئی گھر والامجھ سے زیادہ محتاج نہیں ۔ ‘‘  یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اتنا مسکرائے کہ آپ کی مبارک ونورانی داڑھیں ظاہر ہوگئیں ۔ ارشاد فرمایا:  ’’ جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلادو۔ ‘‘   (1)  
 (3) صحابی رسول اور قربانی کا جانور:
حضرتِ سَیِّدُنا  بَراء بن عازِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابو بُردَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عید کی نماز سے پہلے  اپنی قربانی کرلی تو حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن سے ارشادفرمایا: ’’  اس کے بدلے میں دوسری قربانی کرو۔ ‘‘  وہ عرض گزار ہوئے: ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے پاس تو چھ مہینے کا بکری کا بچہ ہے۔ ‘‘  حضرت سَیِّدُنَا شعبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتےہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بہتر ہے۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:  ’’ اسی کی قربانی دے دو لیکن تمہارے بعد کسی اور کے لیے ایسا کرنا کافی نہ ہوگا۔ ‘‘  (2) 
اِختیاراتِ مصطفےٰ کا تفصیلی عقیدہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خلاصہ یہ کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنے حبیب،  ہم گناہگاروں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ہر طرح کے اِختیارات سے نوازا ہے۔صدرالشریعہ،  بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِختیاراتِ مصطفےٰ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے نائب مطلق ہیں ،  تمام جہان حضور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  کے



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الصیام  ، باب تغلیظ تحریم الجماع فی نھار رمضان ۔۔۔الخ  ، ص۵۶۰، حدیث: ۱۱۱۱۔
2 -   بخاری، کتاب الاضاحی   ، باب قول النبی لابی بردۃ۔۔۔ الخ، ۳‏ /  ۵۷۵، حدیث: ۵۵۵۷۔