بخشیں ، لہذا ہم بھی حضورسے ایمان، مال، اولاد، عزت، جنت، سب کچھ مانگ سکتے ہیں ، یہ مانگنا سنت صحابہ ہے۔حضور کےلنگر سے یہ سب کچھ قیامت تک بٹتا رہے گا اور ہم بھکاری لیتے رہیں گے۔صوفیاءفرماتےہیں کہ حضرت ربیعہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے حضور سے حضور ہی کو مانگا مگر چونکہ حضور جنت میں ہی ملیں گے، لہذا جنت کا بھی ذکر کردیا۔ ‘‘ (1)
اختیاراتِ مصطفےٰپر تین اَحادیث مبارکہ
(1) زمین کے خزانوں کی کنجیاں :
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے جوامع الکلم بنا کر مبعوث فرمایا گیا ہے اور رُعب کے ساتھ میری مدد فرمائی گئی ہے ایک روز جبکہ میں سو رہا تھا تو میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں دے دی گئیں ۔ ‘‘ (2)
(2) صحابی رسول اور روزے کا کفارہ:
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص آیا اور اس نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں ہلاک ہوگیا۔ ‘‘ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے استفسار فرمایا: ’’ كس چیز نے تمہیں ہلاک کیا ؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ میں نے روزے کی حالت میں اپنی زوجہ سے صحبت کرلی ہے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ کیا تمہارے پاس ایک غلام ہے کہ جسے تم کفارہ کے طور پر آزاد کردو؟ ‘‘ اس نےعرض کی : ’’ نہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ کیا تم لگاتار دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ نہیں ۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’ کیا تم ساٹھ 60مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ نہیں ۔ ‘‘
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح، ۲ / ۸۴۔
2 - بخاری، کتاب الجھاد والسیر ، باب قول النبی نصرت بالرعب۔۔۔ الخ،۲ / ۳۰۳، حدیث: ۲۹۷۷۔