ہوا جنت اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نظر عنایت سے ہی ملے گی البتہ نیک اعمال اور کثرت سجود وغیرہ اس میں مُعاون ہیں ۔ چنانچہ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یعنی جنت میں تمہیں اعلیٰ مقام پرپہنچانا میرے کرم سے ہے نہ کہ محض تمہارے سجدوں سے، تم اپنے سجدوں سے مجھے اس کام میں اِمداد دو۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ کثرتِ سجود سے بتایا گیاکہ فقط نمازِ پنجگانہ پر کفایت نہ کرو بلکہ نوافل کثرت سے پڑھو تاکہ میرے قُرب کے لائق ہوجاؤ۔ جیسے بادشاہ کہے کہ ’’ میرے پاس آناہے تو اچھا لباس پہنو۔حاضری بادشاہ کے کرم سے ہے اور اچھا لباس دربار کے آداب میں سے۔ ‘‘
مالک ہیں خزانۂ قدرت کے جو جس کو چاہیں دے ڈالیں
دی خلد جناب ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے (1)
سَیِّدُنَا ربیعہ پر بارگاہِ رسالت کی عطائیں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سَیِّدُنَا ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا کہ مانگو تو انہوں نے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فقط ایک ہی چیز مانگی اور وہ ہے: ’’ جنت میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رفاقت۔ ‘‘ لیکن اس ایک چیز کے ضمن میں سَیِّدُنَا ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہ رسالت سے بہت سی چیزیں عطا ہوئیں ۔ چنانچہ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس جگہ حضور تاجدار کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے حسب ذیل چیزیں مانگیں : ٭ ٭زندگی میں ایمان پر استقامت٭٭ نیکیوں کی توفیق، ٭٭ گناہوں سے کنارہ کشی، ٭٭مرتے وقت ایمان پر خاتمہ، ٭٭ قبر کے حساب میں کامیابی، ٭٭حشرمیں اعمال کی قبولیت، ٭٭پل صراط سے بخیریت گزر، ٭٭جنت میں ربّ کا فضل و بلندیٔ مراتب۔یہ سب چیزیں صحابی نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مانگیں اور حضور نے صحابی کو
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح، ۲ / ۸۴۔