رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا کہ ’’ اگر تم جنت میں میری رَفاقت چاہتے ہو تو پھر کثرت سجود کے ذریعے میری مدد کرو اور نفسانی خواہشات کی مخالفت کرو۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ شرط کیوں بیان فرمائی؟ علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس کی بہت پیاری توجیہ بیان فرمائی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں : ’’ اے غورو فکر کرنے والے! اس شرط پر غور کر، ان دونوں باتوں (حضور کی رفاقت اور کثرت سجود) کو باہم مربو ط کرنے سے تُو ایک دقیق راز سے آگاہ ہوگا، وہ یہ کہ اگر کوئی شخص رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رفاقت چاہتا ہے تو وہ اس رفاقت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قُرب (کثرت سجود) کے بغیر حاصل نہیں کرسکتااور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قُرب پانا چاہتا ہے وہ اس کے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قُرب کے بغیر نہیں پا سکتا کیونکہ خود اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ۳، آل عمران: ۳۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع کو دو محبتوں (بندے کی ربّعَزَّ وَجَلَّسے محبت اور ربّعَزَّ وَجَلَّ کی بندے سے محبت) کے درمیان رکھ دیا ہے وہ اس طرح کہ بندے کی ربّ عَزَّوَجَلَّ سے محبت حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِتباع سے مشروط ہے اور ربعَزَّوَجَلَّ کی بندے سے محبت بھی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی پر موقوف ہے۔ ‘‘ (1)
جنتی رفاقت کا سبب:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہاں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنَا ربیعہ اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ فرمایا کہ ’’ سجدوں کی کثرت کر کے اپنے معاملے میں میری مدد کرو۔ ‘‘ یہ نہ فرمایا کہ ’’ سجدوں کی کثرت کرو تمہیں جنت میں میری رفاقت مل جائے گی۔ ‘‘ معلوم
________________________________
1 - شرح الطیبی ، کتاب الصلاۃ، باب السجود وفضلہ، ۲ / ۴۱۳، تحت الحدیث: ۸۹۶۔