صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریبی مراتب میں سے کوئی ایک مرتبہ مل جائے۔انہوں نے اس مرتبے کو مُرَافَقَت سے تعبیر فرمایا۔ ‘‘ (1)
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرافقت کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ یعنی مجھے آپ جنت میں اپنے ساتھ رکھیں ، جیسے بادشاہ شاہی قلعہ میں اپنے خاص خادموں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں ۔ ‘‘ (2)
حضور کے مُسَاوِی کسی کا مقام نہ ہوگا:
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَّاد فرماتے ہیں کہ جب حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رفاقت کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا:”اس کے علاوہ اور کچھ مانگ۔“ تو حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی کہ ’’ بس یہی چاہیے۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:” تو پھر سجدوں کی کثرت کر کے میری مدد کرو۔“ تاکہ کثرت سجود سے میرے قُرب اور تمہارے درجات کی بلندی میں اضافہ ہویہاں تک کہ تم جنت میں میرے درجے کے قریب آجاؤ لیکن وہ میرے درجے کے مُسَاوی نہ ہوگا۔ بے شک سجدہ قُرب حاصل کرنے اور دَرَجات کی بلندی کا ذریعہ ہے۔فرمان باری تعالی ہے: ( وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ (۱۹) ) (پ۳۰، العلق: ۱۹) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجاؤ۔ ‘‘ اور حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: ”بندہ جب سجدہ کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا ایک درجہ بلندفرما دیتاہے۔“ (3)
قُربِ خدا اور قُربِ حبیب خدالازم ومَلْزوم:
حدیث پاک میں ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنَا ربیعہ
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ،۱ / ۳۲۴، تحت الحدیث: ۱۰۶۔
2 - مرآۃ المناجیح، ۲ / ۸۴۔
3 - اکمال المعلم، کتاب الصلاۃ ، باب فضل السجود والحث علیہ ،۲ / ۴۰۳، تحت الحدیث: ۴۸۹۔