ہوتاہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے خزانوں میں سے ہر اس چیز کے عطاکرنے کا اختیار دیا ہے جوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعطا کرنا چاہیں اور یہ بھی اختیار دیا کہ آپ مانگنے والوں میں سے جس کو چاہیں جس چیز کے ساتھ چاہیں خاص فرمادیں ، کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فضل و کرم اور کمال کے ایسے دریا ہیں جس کا کوئی ساحل نہیں ہے۔ ‘‘ (1)
تمام کام رسول اللہ کے دست اقدس میں :
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مطلقاً فرمایا: ”مانگو“اور کسی مطلوبِ خاص کی قید نہ لگائی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کام رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دستِ ہمت و کرامت میں ہیں جو کچھ چاہتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں اپنے پروردگار کے اِذْن سے عطا فرماتے ہیں ۔ ‘‘ (2)
جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں
نبی مختارِ کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کردیں
مُرَافَقَت سے مراد قریبی مَرتبہ ہے:
مذکورہ حدیث میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رفاقت کا سوال کیاتو کیا حضرت سَیِّدُنَا ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنت میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برابری کا درجہ مانگا تھا ؟ چنانچہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہاں پر یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مقام تو مقامِ وسیلہ ہے جو کہ صرف آپ کے ساتھ خاص ہے وہاں تو کوئی نبی بھی نہیں پہنچ سکتے چہ جائیکہ کوئی دوسرا وہاں پہنچے؟ کیونکہ حضرت سَیِّدُنَا ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مراد یہ تھی کہ آپ
________________________________
1 - لمعات التنقیح، کتاب الصلاۃ ، باب السجود و فضلہ،۳ / ۱۷۲،تحت الحدیث: ۸۹۶۔
2 - اشعۃ اللمعات،کتاب الصلوۃ ،باب السجودو فضلہ ،۱ / ۴۲۵۔