Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
23 - 662
کی ہمشیرہ حضرتِ سَیِّدَتُنَا  اُمِّ قَیْس بِنْتِ مِحْصَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا :ایک مرتبہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے بقیع کے متعلق فرمایا کہ اِ س قبرستان سے ستر ہزار70000 اَفرادبِلاحساب جنت میں جائیں گے ، اُن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ یہ سن کرایک شخص  (یعنی سَیِّدُنَا عُکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)  نے عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں بھی  (اُن میں سے ہوں ؟ )   ‘‘ فرمایا:  ’’ اور تو بھی۔ ‘‘  پھر ایک دوسراشخص کھڑا ہوا اور کہا : ’’ میں بھی؟  ‘‘  فرمایا:  ’’ عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا ۔ ‘‘  راوی کہتے ہیں کہ میں نے سَیِّدَتُنَا اُمِّ قَیْس بنت مِحْصَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا کہ حضور سَروَرِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوسرے شخص سے وہی بات کیوں نہیں کہی جو سَیِّدُنَاعکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے کہی تھی؟  ‘‘  فرمایا:  ’’ میرا خیا ل ہے کہ دوسرا شخص منافق تھا۔ ‘‘ پس جس نے دوسرے شخص کو اِس حدیث کی بنیاد پر منافق کہا ہے تو اُس کے غیر کی تاویل کو رَد نہیں کیا جائے گا۔ (یعنی جس نے منافق نہیں کہا بلکہ کوئی اور تاویل کی تو اُس کی بات اِس حدیث کی بنیاد پر رَد نہیں کی جائے گی)  کیونکہ اِس حدیث میں تو صرف ظن کی بات ہے۔ ‘‘  (1)    ( اورفقط ظن کی وجہ سے کسی کی منافقت ثابت نہیں ہوتی) ۔ 
دم کرنے کا جواز اور مُمَانعت میں مُطابَقت:
حدیثِ مذکور میں جھاڑ پھونک کی ممانعت کا بیان ہے جبکہ کئی احادیثِ مبارکہ سے دم کا ثبوت ملتا ہے تو اِن دو طرح کی حدیثوں میں کیسے مطابقت ہوگی؟ آئیے اِس کی وضاحت ملاحظہ فرمائیے۔شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیتفہیم البخاری میں فرماتے ہیں : ’’ بعض اَحادیث میں دَم  (جھاڑ پھونک)  کرنے کا جواز اور بعض میں ممانعت مذکور ہے،  دونوں قسم کی اَحادیث بکثرت ہیں ،  اِن میں اِتِّفَاق کی صورت یہ ہے کہ جن اَحادیث میں ممانعت ہے وہ اُس دم پر محمول ہیں جس میں غیر شرعی کلما ت ہوں اور جس دم میں کلماتِ قرآن اور اَسما ء ِ ا لہٰیہ مذکور ہیں وہ منتر  (دَم)  جا ئز ہیں ۔ ‘‘  (2) 



________________________________
1 -   فتح الباری، کتاب الرقاق، باب یدخل الجنۃسبعون الفا بغیر حساب،۱۲‏ / ۳۵۲۔ ۳۵۳ ، تحت الحدیث: ۶۵۴۲ ملخصا۔
2 -   تفہیم البخاری،۸‏ / ۷۷۴۔