Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
229 - 662
 اِنعامات سے نوازتے ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے زیادہ کریم کوئی نہیں ۔ ‘‘  (1) 
رسول اللہ کے اِختیارات کی وُسعت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا صراحتاً بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مطلقاً فرمایا کہ ”مانگو جو مانگنا ہے۔“اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کو زمین وآسمان ودنیا وآخرت کے تمام خزانوں پر ایسا اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ جسے چاہیں جو چاہیں عطا فرمادیں اسی وجہ سے ہمارے ائمہ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خصوصیات میں اس بات کو شمار فرمایا ہےکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس بات کا اختیار ہے کہ کسی بھی شخص کو کسی بھی حکم کے ساتھ چاہیں تو خاص فرمادیں ۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا خزیمۃ بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی گواہی کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوشخصوں کی گواہی کے برابر فرمایا۔حضرت سَیِّدَتُنَا  اُمِّ عطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ایک خاص خاندان کے لیے نوحے کی اجازت عطا فرمائی۔علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’ شارِع یعنی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عام حکم سے جس کو چاہیں خاص فرمادیں ۔ جیسے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابوبُردہ بن نیار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور اُن کے علاوہ بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے لیے چھ ماہ کے بکرے کی قربانی کو جائز فرمایا۔ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خصوصیات میں اس بات کو بھی ذکر کیا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جنت کی زمین کا مالک کردیا ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس میں سے جو چاہیں جسے چاہیں جتنا چاہیں عطا فرمائیں ۔ ‘‘  (2) 
فضل و کرم وکمال کے دریا:
لمعات التنقیح میں ہے:آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا مطلقاً فرمانا کہ ”مجھ سےمانگو۔“اس سے معلوم



________________________________
1 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلوۃ، باب السجود وفضلہ، ۲‏ / ۶۱۵، تحت الحدیث: ۸۹۶۔
2 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ، باب السجود وفضلہ، ۲‏ / ۶۱۵، تحت الحدیث: ۸۹۶ ملخصا۔