Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
228 - 662
 وَسَلَّمکے خادِم اور اہل صُفَّہ میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ میں رات کو  حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر رہا کرتا تھا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وضو اور دیگر حاجات کے لیے پانی لایا کرتا تھا،  ایک دن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  (کے جودوکرم کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا اور آپ) نے مجھ سے ارشاد فرمایا:  ’’  (اے ربیعہ!)  مانگ کیا مانگتا ہے؟  ‘‘ میں نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں جنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں ۔“آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اس کے علاوہ اور کچھ؟  ‘‘  میں نے عرض کی: ’’ بس یہی۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تو پھر سجدوں کی کثرت کر کے اپنے معاملے میں میری مدد کرو۔ ‘‘ 
سَیِّدُنَا ربیعہ بن کعب کامختصرتعارف:
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کنیت ابوفراس ہے، اسلمی ہیں ، اصحاب صفّہ میں سے تھے، قدیم الاسلام صحابی ہیں ، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سفر وحضر کے خاص خادم ہیں ، سن ۶۳ ہجری میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکاوصال ہوا۔ (1) 
رسول اللہ کی کرم نوازی کی وجوہات:
مذکورہ حدیثِ پاک میں ہے کہ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا :  ’’ مانگو! کیا مانگتے ہو؟ “شارحین نے اس کی کئی وجوہات بیان فرمائی ہیں ۔ چنانچہ،  
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے سَیِّدُنَا ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا:”مانگوکیا مانگتے ہو؟ یعنی مجھ سے اپنی حاجت بیان کرو۔  ‘‘ 
علامہ ابن حجر ہیتمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :”یعنی تم نے جو میری خدمت کی ہے اُس خدمت کے صلے میں ،  میں تمہیں تحفہ دوں ۔ کیونکہ کریموں کی یہ شان ہوتی ہے کہ جو اُن کی خدمت کرتا ہے اُسے



________________________________
1 -   مرآۃ المناجیح، ۲‏ / ۸۳۔