(1) انسان کو اپنی گفتگو میں بہت محتاط رہنا چاہیے کیونکہ ایک ایسا لفظ منہ سے نکل گیا جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہو گیا تو وہ اسے جہنم میں داخل کردے گا۔
(2) چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی نہیں چھوڑنا چاہیے، ہوسکتا ہے کہ وہی نیکی جنت میں داخلے کا سبب بن جائے ، اسی طرح چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچنا چاہیے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہی گناہ جہنم میں داخلے کا سبب بن جائے۔
(3) یہ ضروری نہیں کہ نیک اعمال کی کثرت سے جنت میں داخلہ ملے بلکہ معمولی نظر آنے والی نیکی بھی جنت میں داخلے کا سبب بن سکتی ہے، اسی طرح دوزخ میں داخل ہونا گناہوں کی کثرت پر موقوف نہیں بلکہ بظاہر معمولی نظر آنے والا گناہ بھی جہنم میں داخلے کا سبب بن سکتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے، نیکیوں کی ترغیب دینے، گناہوں سے بچنے اور دیگر لوگوں کو گناہوں سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں اپنی رحمت کاملہ سے جنت میں داخلہ عطا فرمائے، جنت الفردوس میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :106
جَنَّت میں رسُولُ اللہ کی رَفَاقَت
عَنْ اَبِیْ فِرَاسٍ رَبِیْعَۃَ بْنِ کَعْبٍ اَلْاََسْلَمِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:کُنْتُ اَبِیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاٰتِیْہِ بِوَضُوْئِہِ وَحَاجَتِہِ فَقَالَ: سَلْنِیْ، فَقُلْتُ: اَسْاَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِیْ الْجَنَّۃِ، فَقَالَ:اَوْ غَیْرَ ذٰلِکَ؟ قُلْتُ ہُوَ ذَاکَ قَالَ: فَاَعِنِّیْ عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ. (1)
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا ابو فِرَاس رَبیعہ بن کَعْب اَسْلَمِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
________________________________
1 - مسلم، کتاب الصلاۃ ، باب فضل السجود و الحث علیہ ، ص۲۵۲، حدیث: ۴۸۹۔