کہنے لگا: ’’ یہ شخص اُمَّت محمد یہ میں سے ہے اور اس کے پاس ایک بھی نیکی اور بھلائی کی بات نہ ہو ، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ بس تم اُوپر چڑھو میں خود جا کر دیکھتا ہوں ۔ ‘‘ چنانچہ اس دوسرے فرشتے نے آ کر اس کے منہ، پیٹ اور قدموں کو سونگھا مگر اُن میں قرآن پڑھنے اور نماز روزے کی خوشبو نہ پائی تو پھر دوبارہ اُسے سونگھنا شروع کیا اور اس شرابی کی زبان کا کنارہ نکال کر سونگھا تو فوراً بول اُٹھا: ’’ اللہ اکبر! میں نے دیکھا کہ اس نے مقامِ انتا کیہ میں جہاد کے دوران اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے لیے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا۔ ‘‘ پھر اس نوجوان کی روح پرواز کر گئی اور میں نے اس کے گھر کو کستوری کی خو شبو میں بسا ہوا پایا ۔اگلی صبح جب میں نماز فجر سے فارغ ہوا تو نمازیوں سے کہا: ’’ کیامیں تمہیں تم ہی میں سے ایک جنتی شخص کے بارے میں بتاؤں ؟ ‘‘ پھر میں نے اہل مسجد کو اپنے بھتیجے کا واقعہ سنا یا۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے فقط ایک بار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اَللہُ اَکْبَر کہنا ہی اس شرابی کے کام آگیا۔ اِس حکایت سےمعلوم ہوا کہ کسی بھی نیکی کو چھوٹا اور معمولی سمجھتے ہوئے نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ ہوسکتا ہے بظاہر چھوٹی نظر آنے والی اُس نیکی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کے سبب جنت میں داخل فرمادے ۔اِسی طرح کسی بُرائی وگناہ کو ہلکا ومعمولی یا چھوٹا وصغیرہ سمجھ کر نہ کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ بظاہر چھوٹے نظر آنے والے اِس گناہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کے سبب جہنم میں داخل کردے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
مدنی گلدستہ
”اَحمد“کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جنت و دوزخ انسان کے بہت قریب ہیں پس اگر وہ نیکی کرےگا تو جنت میں داخل ہوجائے گا اور اگر گناہ کرے گا تو دوزخ میں داخل ہوجائے گا۔
________________________________
1 - التذکرہ باحوال الموتی وامور الآخرۃ،باب منہ فی الشفعاءوذکرالجھنمیین،ص۳۳۴۔