اُس گناہ کو بھی نہیں جانتا جس کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے ناراض ہوجائے۔ (لہٰذا بندے کو چاہیے کہ ہر قسم کے نیک اَعمال بجالائے اور ہر طرح کے گناہوں سے اجتناب کرے۔) ‘‘ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بسا اوقات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہونے والی چھوٹی سی نیکی بڑے بڑے گناہوں پر غالب آجاتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لیے زبان سے نکلے ہوئے چند کلمات بارگاہِ ربُّ الْعِزَّت میں بندے کی نجات کا سبب بن جاتے ہیں ۔اسی ضمن میں ایک حکایت ملاحظہ فرمائیے:
اللہ اکبرکہنے کی برکت:
ابو بکر محمد بن ابراہیم کلاباذی نے ” بحر الفوائد“ میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میرا ایک بھتیجا شراب پینے کا عادی تھا ، وہ بیمار ہوا تو اس نے مجھے ملاقات کے لیے پیغام بھیجا ، میں اس کے گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو سیاہ رنگ کے فرشتے اس کے پاس بیٹھے ہیں ۔میں نے کہا :”اِنَّالِلّٰہِ (یعنی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) میرا بھتیجا ہلاک ہو گیا۔ ‘‘ اتنے میں گھر کے روشن دان سے دو سفید فرشتوں نے اندر جھانکا۔ایک نے دوسرے سے کہا : ’’ نیچے اترو اور اس نوجوان کے پاس جاؤ۔ ‘‘ جب وہ نیچے آیا تو دونوں سیاہ فرشتے وہاں سے چلے گئے ، اس سفید فام فرشتے نے آ کر نوجوان کے منہ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی ذکر نہیں پایا ۔ ‘‘ پھر پیٹ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میں روزے کی خوشبو نہیں پائی اور پاؤں کو سونگھالیکن اس میں بھی نماز کی خوشبو نہیں پائی۔ ‘‘ پھر وہ فرشتہ اپنے ساتھی سے جا کرافسوس کرتے ہوئے کہنے لگا:”اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ یہ شخص اُمَّت ِ محمد یہ میں سے ہے لیکن میں نے اس میں کوئی بھلا ئی نہیں پائی۔ ‘‘ اس کے ساتھی فرشتے نے اس سے کہا : ’’ افسوس ہے تجھ پر!تو کیسی بات کہتا ہے، تو دوبارہ اس کے پاس جا اور غور سے جائزہ لے۔ ‘‘ وہ فرشتہ دوبارہ اس نوجوان کے پاس آیا اور اس نے پھر اس کے منہ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی ذکر نہیں پایا ۔ ‘‘ پھر پیٹ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میں روزے کی خوشبو نہیں پائی۔ ‘‘ پھر پاؤں کوسونگھااور کہا: ’’ اس میں بھی نماز کی خو شبو نہیں پاتا۔ ‘‘ یہ سن کر دوسرا فرشتہ
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب الرقاق، باب الجنۃ اقرب۔۔۔ الخ ،۱۵ / ۵۶۱، تحت الحدیث: ۶۴۸۸۔