اور کبھی منہ سے ایک بات اچھی نکل جاتی ہے جو ربّ کو پسند ہو اس سے بندہ کے عمر بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور وہ جنتی ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ ایک لفظ میں جنت و دوزخ ہے، چونکہ جنت ودوزخ اپنے عمل سے ملتی ہیں اور اُن کے راستے عمل کے قدموں سے طے ہوتے ہیں اِس لیے نبی کریم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس قُرب کو جوتے کے تسمے سے تشبیہ دی یعنی ایک قدم میں جنت ہے اور ایک قدم میں دوزخ۔ ‘‘ (1)
معمولی عمل سے دُخولِ جنت وجہنم:
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جنت و دوزخ میں داخل ہونا اَعمالِ صالحہ اور گناہوں کی کثرت پر موقوف نہیں بلکہ معمولی نظر آنے والی بُرائی بھی جہنم میں داخلے کا سبب بن سکتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہونے والی چھوٹی سی نیکی بھی بندے کو جنت میں داخل کرواسکتی ہے۔ خداوندِ کریم کے یہاں اگر ایک نیکی بھی مقبول ہوجائے تو وہ بندے کی نجات کا سبب بن جاتی ہے۔ امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جس بندے کی کوئی ایک بھی نیکی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہوگئی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘ (2)
کسی بھی عمل کو معمولی نہ سمجھو:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ مذکورہ حدیث میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اعمالِ صالحہ بندے کو بہشت تک پہنچا دیتے ہیں اور مَعَاصی کے اِرتکاب سے بندہ آتش دوزخ کے قریب تر ہوجاتا ہے اور بسا اوقات یہ بہشت و دوزخ کی نزدیکی بہت آسان دکھائی دینے والے عمل سے وقوع پزیر ہو جاتی ہے لہٰذا مؤمن کو چاہیے کہ وہ کسی بھی نیک عمل کو چھوٹا سمجھ کر نہ چھوڑے اور کسی بھی بُرائی کو معمولی سمجھ کر نہ کرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جس گناہ کو وہ چھوٹا گمان کر رہا ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک وہ بہت بڑا گناہ ہو۔بےشک مؤمن اس نیکی کو نہیں جانتا جس کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس پر رحم فرمادے اور
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح،٣ / ٣٨١ ۔
2 - شرح بخاری لابن بطال، کتاب الرقاق ، باب حجبت النار باالشھوات،۱۰ / ۱۹۸۔