Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
223 - 662
داخلہ بھی۔ ‘‘  (1)   (یعنی اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ دائمی طورپر نیک اَعمال کرنے سے جنت میں داخل ہونا آسان ہوجاتا ہے اور اسی طرح نفس کی اتباع کرنے سے جہنم میں داخل ہونے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوجاتے ہیں ۔) 
فکر آخرت کی ترغیب:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث مذکور میں اس بات کو بیان کیا جارہا ہے کہ آدمی کو اپنی آخرت کے حوالے سے بہت محتاط رہنا چاہیے اور ہر اُس فعل سے اِجتناب کرنا چاہیے کہ جو آخرت کے لیے نقصان دہ ہو کیونکہ آتشِ دوزخ کے بندے سے  قریب ہونے کے بارے میں حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں آگاہ فرمادیا ہے اور اب اس صورت حال میں تھوڑی سی بھی لا پرواہی خسارے کا باعث بن سکتی ہے۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اطاعت جنت تک لے جاتی ہے اور نافرمانی دوزخ کے قریب کرتی ہے اور یہ جنت و دوزخ سے قریب ہونا کبھی کسی چھوٹے عمل کی وجہ سے بھی ہوتا ہے  (یعنی عمل تو بظاہر بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن اس عمل میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا یا ناراضی ہوتی ہے۔) حضور نبی اَکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ  ’’ بعض اوقات اِنسان اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضاوالا ایسا کلام کرتاہے کہ جس کو وہ خود بھی  کوئی اَہمیت نہیں دیتا لیکن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس کلام کے سبب اِس بندے کے حق میں قیامت تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے اور بعض اوقات انسان اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی والا ایسا کلام کرتا ہے جس کی یہ کوئی پرواہ نہیں کرتا لیکن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس بات کی وجہ سے قیامت تک اِس بندے سے ناراض ہوجاتا ہے۔ ‘‘  (2) 
ایک لفظ میں جنت ودوزخ ہے:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ’’ کبھی منہ سے ایک بُری بات نکل جاتی ہے تو ساری عمر کی نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں اور بندہ دوزخی ہوجاتا ہے



________________________________
1 -    فتح الباری،کتاب الرقاق،باب الجنۃ اقرب۔۔۔ الخ ،۱۲‏ / ۲۷۴، تحت الحدیث: ۶۴۸۸۔
2 -   شرح بخاری لابن بطال، کتاب الرقاق ، باب حجبت النار باالشھوات،۱۰‏ / ۱۹۸۔