Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
222 - 662
جوتے کے تسمے سے تشبیہ کی وجہ:
مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔حدیث پاک میں جس تسمے کا ذکر ہے وہ در اصل وہ تسمہ نہیں جو ہمارے یہاں مُراد لیا جاتا ہے بلکہ اس سے مُراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں داخل کرتا ہے  (جیساکہ فی زمانہ انگوٹھے والی چپلوں میں یہ تسمہ بناہوا ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا انگوٹھا ڈالتا ہے)  جوتے میں اگر یہ تسمہ نہ بنایا جائے تو آدمی کے لیے چلنا دشوار ہوجائے۔ (1)  
جنت وجہنم کے قرب کی وجوہات:
جس طرح جوتیوں کا تسمہ بندے سے بہت قریب ہوتا ہے اسی طرح جنت ودوزخ بھی بندے سے بہت قریب ہیں اور جس طرح اس تسمے میں انگوٹھا داخل کرنا انسان کے لیے بہت آسان ہے یوں ہی جنت و دوزخ میں داخلہ بھی بہت سہل،  اِسی قُرب و سَہل کو شارِحین نے مختلف انداز سے بیان کیاہے۔ چنانچہ اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طَیِّبِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث میں جنت و دوزخ کی قُرْبَتْ کو جوتے کے تسمے کی قُرْبَتْ سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ ثواب وعذاب کا حصول بندے کی اپنی کوشش سے ہوتا ہے اور کوشش قدموں کے ذریعے ہوتی ہے۔ توجو شخص کوئی نیک کام کرے گاوہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے وعدے کی وجہ سے جنت کا مستحق ہوگااور جو بُرا عمل کرےگا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی وعید کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہوگا ۔ ‘‘  (2) 
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:  ’’ اس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ اچھی نیت اور نیک اَعمال کے ساتھ جنت کا حصول نہایت آسان ہے اور اسی طرح خواہشاتِ نفس کی پیروی اور بُرے اعمال کے ذریعے جہنم کا 



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱‏ / ۳۲۳، تحت الحدیث: ۱۰۵ ملخصا۔
2 -   شرح الطیبی، کتاب الدعوات ، باب سعۃ رحمۃ اللہ ،۵ ‏ / ۱۳۴، تحت الحدیث: ۲۳۶۸۔