پکارو!اے وہ ذات جس کی نافرمانی کرنااس کو نقصان نہیں دیتی اور نہ ہی جس کی اطاعت کرنااس کو کوئی فائدہ دیتی ہے! یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہماری خرابیوں کے بدلے درستی عطا فرما اور خسارے کے عوض نفع عطا فرما۔ اے وہ ذات جس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق جس میں چراغ ہے! اپنی رحمت سے ہمارے معاملے میں درگزرفرما، ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے موت سے قبل آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما، تاکہ ہماری قبر اچھی ہو، ہمارا حشر اچھا ہو، کل بروزِ قیامت ہم تیری رحمت کے سائے میں ہوں ، اے ربّ کریم! ہمیں دُنیوی سوچوں سے نجات دلاکر اُخروی مدنی سوچ عطا فرما۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے … یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سُو نمونے … مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ وبو نے
کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے … جو آباد تھے وہ محل اب ہیں سُونے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے … یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
اللہ کے ولی ’’ بشر حافی ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) مرنے کے بعد بندے کا تعلق ہرچیزسے منقطع ہوجاتا ہے سوائے اعمال کے کہ وہ بندے کے ساتھ اس کی قبر میں جاتے ہیں ۔
(2) انسان کا اصل مال جو آخرت میں اس کے کام آئے گا وہی ہے جو اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کرکے اپنی آخرت کے لیے جمع کرلیا۔
(3) نیک اعمال اچھی صورت میں آکر نیک مؤمن کا دل بہلاتے ہیں ، اسے خوشخبری دیتے ہیں جبکہ بُرے