ہوئے اَحسن اَنداز میں جواب دیا کہ شاید وہ توبہ کر لے اور راہِ راست پر آجائے۔ ‘‘ (1)
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ایک قول یہ ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وحی کے ذریعے علم ہوگیا تھا کہ عُکاشہ کا سوال قبول کیا جائے گا اور دوسرے شخص کے بارے میں یہ بات واقع نہ ہوگی۔ میں کہتا ہوں کہ خطیب بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْھَادِینے اپنی کتاب ”اَلْاَسْمَاءُ الْمُبْھَمَۃُ فِی الْاَنْبَاءِ الْمُحْکَمَۃِ“ میں فرمایا کہ دوسرے شخص حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔ اگر یہ بات درست ہے تو وہ قول باطل ہوجائے گا جس میں کہا گیا کہ وہ شخص مُنَافِق تھا اور دوسرا قول (یعنی حضرت سَیِّدُنَا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ والا) اَظْہَر و مُخْتَار ہے۔ (2)
فَتْحُ الْبَارِی میں ہے:عَلَّامَہ قُرْطُبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’ دوسرے شخص میں وہ صفات نہ تھیں جو حضرت سَیِّدُنَاعُکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں تھیں ، اِس لیے ا ُس کی بات قبول نہ کی گئی۔ کیونکہ اگر اُس کی بات بھی مان لی جاتی تو وہاں پر موجود تمام لوگ یہی سوال کر سکتے تھے اِس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا لہٰذاایسا جواب دیا گیا کہ جس سے یہ باب بند ہوگیا۔ اوریہ تاویل اِن دو وجوہات کی بنا پر اُس قول سے بہتر ہے جس میں دوسرے شخص کومنافق کہا گیا ہے: (۱) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں اَصل عدمِ نفاق ہے اور نقلِ صحیح کے بغیر اِس کے خلاف بات ثابت نہیں ہوسکتی۔ (۲) ایسا سوال قصدِ صحیح اور تصدیقِ رسول پر یقین کی وجہ سے ہی ہوتا ہے پھر کسی منافق سے یہ کیسے صادر ہوسکتا ہے؟ ‘‘ عَلَّامہ سُہَیْلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: ’’ میرے نزدیک یہ وجہ تھی کہ حضرت سَیِّدُنَاعُکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سوال کی قبولیت کی گھڑی تھی جس کا سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو علم تھا۔لیکن جب دوسرے شخص نے سوال کیا تو وہ مبارک ساعت گزر چکی تھی اِس لیے اُس کا سوال قبول نہ کیا گیا۔ ‘‘
اِمام ابن حجر عَسْقَلَانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ یہ وُجُوہات اَئِمَّہ کرام کے کلام سے حاصل ہوئی ہیں اور حقیقتِ حال اللہ عَزَّ وَجَلَّ بہتر جانتا ہے۔ اور مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عُکاشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب الطب ،باب من اکتویٰ اوکوی غیرہ ۔۔ ۔الخ ،۱۴ / ۶۹۰، تحت الحدیث: ۵۷۰۵۔
2 - شرح مسلم للنووی،کتاب الایمان، باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین۔۔۔ الخ، ۲ / ۸۹، الجزء الثالث۔