Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
219 - 662
نے ان کے جسموں کا کيا حال کرديا ؟ قبر کے کيڑوں نے اُن کے گوشت کا کيا اَنجام کرديا ؟ ان کی ہڈِّيوں اور جوڑوں کے ساتھ کيا ہوا ؟  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!دُنيا ميں یہ آرام دِہ نرْم نرْم بستر پر ہوتے تھے ليکن اب وہ اپنے گھر والوں اور وطن کو چھوڑ کر راحت کے بعد تنگی میں ہيں ، اُن کی بيواؤں نے دوسرے نکاح کرکے دوبارہ گھر بسا‏لیے،  اُن کی اَولاد گليوں میں دربدر ہے،  اُن کے رشتہ داروں نے اُن کے مکانا ت وميراث آپَس میں بانٹ لی۔ وَاللہ!ان میں کچھ خوش نصيب ہيں جو قبروں میں مزے لوٹ رہے ہيں اوروَاللہ! بعض قبر میں عذاب میں گرفتار ہيں ۔   
 افسوس صد ہزار افسوس،  اے نادان! جو آج مرتے وَقت کبھی اپنے والِد کی ،  کبھی اپنے بیٹے کی توکبھی سگے بھائی کی آنکھیں بند کر رہا ہے،  ان میں سے کسی کو نہلا رہا ہے ،  کسی کو کفن پہنا رہا ہے،  کسی کے جنازے کو کندھے پر اُٹھارہا ہے ،  کسی کے جنازے کے ساتھ جا رہا ہے،  کسی کو قبر کے گڑھے میں اُتارکردفنا رہا ہے۔ یاد رکھ! کل یہ سبھی کچھ تیرے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔ کاش! مجھے علْم ہوتا! کون سا گال  قبر میں پہلے خراب ہوگا۔ ‘‘ پھر حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزيز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رونے لگے اور روتے روتے بے ہوش ہوگئے اور ايک ہفتے کے بعد اس دنيا سے تشريف لے گئے۔
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!ہماری بوئی ہوئی فصل کی کٹائی کا وقت قریب آگیا ہے،  ہم کب تک اس غفلت کا شکار رہیں گے؟  قیامت کی ہولناکیاں ہمارےسامنے ہیں کہ جس دن باپ اپنی اولاد سے بھاگے گا،  ماں کی مامتا بھی اس دن کسی کام نہ آئے گی،  اس وقت انتہائی افسوس ہوگاجب ہمارے اعمال کا حساب ہوگا،  ہم سوکھی ہوئی اس گھاس کی مانند ہو جائیں گے جس کو ہوائیں اِدھر سے اُدھر پھینک رہی ہوتی ہیں ۔ ہم کب تک اس غفلت میں مبتلا رہیں گے؟  حالانکہ توبہ کی قبولیت کا علم تو ظاہر ہو چکا ہے۔اے خواہشات کے سمندر میں غرق ہونے والو! نجات کی کشتی پرسوارہوجاؤاور اپنے اعمال سے برائیوں کا خاتمہ کردو، اپنے نفس کو ندامت کے ساحل پر ڈال دو،  پھر تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو بہت زیادہ کرَم فرمانے والاپاؤ گے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگا ہ میں ذِلّت اور عاجزی کے ساتھ اپنے ہاتھ پھیلاؤ اور اس گھڑی گریہ وزاری کرتے ہوئے