قبر کی کہانی، قبر کی زبانی:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ذرا سوچئے، قبر کی اندھیری رات کیسی ہوگی؟ جب قبر میں مُردے کو لٹایا جاتا ہے تو وہ اس کے ساتھ کیا حشر کرتی ہے؟ آئیے قبر کی کہانی قبر کی زبانی سنتے ہیں ، تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۴۷صفحات پر مشتمل کتاب ’’ حکایتیں اور نصیحتیں ‘‘ صفحہ۲۰۶ پر ہے: امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک جنازے کے ساتھ قبرِستان تشریف لے گئے، جب لوگوں نے صفیں بنالیں توآپ سب سے پیچھے چلے گئے، وہاں ایک قَبْرکے پاس بیٹھ کر غور وفکر میں ڈوب گئے، آپ کے دوستوں نے استفسار کیا: ’’ اے امیرالمؤمنین! آپ تو میت کے ولی ہیں اور آپ ہی پیچھے چلے گئے۔ ‘‘ کسی نے عرض کی: ’’ یا امیرَالمومنین! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہاں تنہا کیسے تشریف فرما ہیں ؟ ‘‘ فرمایا:ابھی ابھی ایک قَبْر نے مجھے پُکار کربلایا اور بولی: اے عمر بن عبد العزیز! مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں اپنے اندر آنے والوں کے ساتھ کیا برتاؤکرتی ہوں ؟ میں نے اُس قبر سے کہا : مجھے ضَرور بتا۔ وہ کہنے لگی: ’’ جب کوئی میرے اندر آتا ہے تو میں اس کا کفن پھاڑ کرجِسْم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی ہوں اوراس کا گوشت کھا جاتی ہوں ، کيا آپ مجھ سے يہ نہيں پوچھیں گے کہ میں اس کے جوڑوں کے ساتھ کيا کرتی ہوں ؟ ‘‘ میں نے کہا: ضَرور بتا۔ تو کہنے لگی: ’’ ہتھيلیوں کو کلائيوں سے ، گُھٹنوں کوپِنڈليوں سے اور پِنڈليوں کو قدموں سے جُداکرديتی ہوں ۔ ‘‘ اتنا کہنے کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہچکیاں لے کر رونے لگے۔جب اِفاقہ ہوا تو کچھ اس طرح عبرت کے مَدَ نی پھول لٹانے لگے: ’’ اے لوگو! اِس دنیا میں ہمیں بہت تھوڑ ا عرصہ رہنا ہے ، جو اِس دنیا میں سخت گنہگار ہونے کے باوُجُود صاحِب اقتدارہے وہ آخِرت میں انتہائی ذلیل و خوا ر ہے۔ جو اس جہاں ميں مالدار ہے وہ آخرت ميں فقير ہوگا۔اِس کا جوان بوڑھا ہوجائے گا اور جو زندہ ہے وہ مرجائے گا۔ دنیا کا تمہاری طرف آنا تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے، کيونکہ تم جانتے ہو کہ يہ بہت جلد رخصت ہوجاتی ہے ۔ کہاں گئے تلاوتِ قرآن کرنے والے؟ کہاں گئے بيتُ اللہ کا حج کرنے والے ؟ کہاں گئے ماہِ رَمَضان کے روزے رکھنے والے ؟ خاک