Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
216 - 662
 نیک و صالح ہوتو اس کا عمل خوبصورت چہرہ ،  اچھے لباس اور بہترین خوشبو کے ساتھ قبر میں اس کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے:”تجھے اس بات کی خوشخبری ہو کہ تیرا معاملہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آسان فرما دیاہے۔ “مُردہ پوچھتاہے: ’’  تو کون ہے؟  ‘‘  تو وہ کہتا ہے: ’’ میں تیرا نیک عمل ہوں ۔ ‘‘ ایک اور حدیث پاک میں حضور نبی کریم  رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کافرکے بارے میں ارشاد فرمایا کہ  ’’ اس کے پاس ایک بد صورت آدمی آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تیر ا خبیث  (یعنی بُرا) عمل ہوں ۔ ‘‘  (1) 
قبر عمل کا صندوق ہے:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ عمل سے مراد میت کے وہ اَفعال و اَقوال ہیں جن پر ثواب و عذاب مُرَتَّب ہوتا ہے، اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ ’’ قبر عمل کا صندوق ہے۔ ‘‘  اور حدیث میں فرمایا گیا کہ  ’’ قبر یاتو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ ‘‘  (2) 
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  ’’ اَعمال سے مراد سارے اچھے بُرے عمل ہیں جو میت نے اپنی زندگی میں کیے ۔اَعمال کے ساتھ جانے سے مراد ا ُن کا میت کے ساتھ تعلق ہے جو مرنے کے بعد قائم رہتا ہے۔نیک اَعمال جو قبول ہوگئے ہمیشہ اُس کے ساتھ رہتے ہیں ،  بُرے اَعمال شفاعت،  بخشش یا سزا بھگتنے تک چمٹے رہتے ہیں ، اِن چیزوں کے بعد پیچھا چھوڑتے ہیں ،  جس پر مولیٰ رحم کرے، حضور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) جسے سنبھال لیں اُس کا بیڑا پار ہے، قبر اَعمال کا صندوق ہے یا دوزخ کی بھٹی ہے یا جنت کی کیاری،  اِس لیے بزرگوں کی قبر کو روضہ کہتے ہیں یعنی جنت کا باغ۔ ‘‘  (3) 
مُردے کے صدمے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں جہاں علم وحکمت کے کئی مدنی پھول چننے کو ملتے



________________________________
1 -   عمدۃ القاری، کتاب الرقاق، باب سکرات الموت،۱۵‏ /  ۵۸۷، تحت الحدیث: ۶۵۱۴۔
2 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق،الفصل الاول،۹‏ / ۲۲، تحت الحدیث: ۵۱۶۷۔
3 -   مرآۃالمناجیح،۷‏ / ۱۱۔