میت کے ساتھ اُس کے جانوروں کوبھی قبرستان تک لے جاتے تھے۔ ‘‘ (1) (تو میت کی ملکیت میں جو جانور وغیرہ ہیں ان کا قبر تک جانا گویا اس کے مال کا اس کے ساتھ جانا ہے۔)
اِنسان کا مال تین3طرح کاہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دنیا کی ہر شے فانی یعنی ختم ہونے والی ہے۔ چاہے گھر ہو یا مال و دولت، آل اَولاد ہوں یا رشتہ دار، ہر شے ایک مخصوص وقت تک ہمارے ساتھ ہے اور اُن تمام چیزوں سے حاصل ہونے والا نفع بھی معینہ مدت تک ہی ہے۔ جیسے ہی آدمی موت کا شکار ہوتا ہے یہ تمام چیزیں بھی ساتھ چھوڑ جاتی ہیں ، انسان زندگی بھر اپنی دولت پر گھمنڈ کرتا ہے لیکن موت اس کے غرور کو خاک میں ملادیتی ہے، جس مال کو یہ اپنا سمجھتا ہے اس کے مرنے کے بعد اس کے رشتہ دار وغیرہ اس پر قبضہ جمالیتے ہیں ، انسان کا مال تو فقط وہی ہے جو اس نے استعمال کرلیا یا راہِ خدامیں خرچ کرکے آخرت کے لیے جمع کرلیا۔چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ بندہ کہتا ہے :میرا مال ، میرا مال۔ حالانکہ اس کا مال صرف تین چیزیں ہیں : جو اس نے کھا کر ختم کردیا، یا پہن کر بوسیدہ کردیا یا کسی کو (راہ خدا میں ) دے کر (آخرت کے لیے) جمع کردیا اور جو ان تین کے علاوہ ہے وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔ ‘‘ (2)
قبرمیں اعمال کی مختلف شکلیں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مردے کے ساتھ اس کی قبر میں صرف اور صرف اس کے اعمال جاتے ہیں ، اب اگر اس کے اعمال اچھے ہیں تو وہ قبر میں ان سے اُنس حاصل کرےگا اور اگر اعمال بُرے ہیں تو وہ اس کے لیے عذابِ قبر کا باعث ہوں گے۔ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مذکورہ حدیث میں جوفرمایا گیاہے کہ میت کا عمل اس کے ساتھ باقی رہتا ہے تو باقی رہنے کا معنی یہ ہے کہ اگر میت
________________________________
1 - فتح الباری، کتاب الرقاق، باب سکرات الموت،۱۲ / ۳۱۲، تحت الحدیث: ۶۵۱۴۔
2 - مسلم، کتاب الزھد و الرقا ئق، ص۱۵۸۲، حدیث: ۲۹۵۹۔