Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
214 - 662
 گھروالوں میں کون کون لوگ شامل ہیں ؟  عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :  ’’  گھر کے لوگوں سے مراد بال  بچے ، عزیز و اَقارب اور دوست و آشنا ہیں ۔ ‘‘  (1) 
ایک اِشکال اور اُس کی وضاحت:
یہاں ایک اشکال ہے کہ بعض میتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے ساتھ ان کے گھر والے نہیں ہوتے،  جبکہ حدیث پاک سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر میت کے ساتھ اس کے گھر والے بھی ہوتے ہیں ۔ اس اشکا ل کا جواب دیتے ہوئے عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتےہیں : ’’ حدیث پاک میں غالب یعنی اکثریت کا لحاظ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان کے ساتھ ان کے گھروالے جاتے ہیں ،  اگرچہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ صرف ان کا عمل جاتا ہے،  گھروالے نہیں جاتے۔ ‘‘  (2) 
میت کے ساتھ مال جانے سے کیا مراد ہے؟ 
حدیث پاک میں گھروالوں کے بعد میت کے مال کا ذکر ہے کہ وہ بھی قبر تک اس کے ساتھ جاتا ہے۔ مال سے کیا مراد ہے؟  اور اس مال کے میت کے ساتھ جانے کا کیا مطلب ہے؟  عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیاس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ مال سے مرادغلام،  باندیاں ،  جانور اور گھر وغیرہ ہیں لیکن یہاں میت کے ساتھ جانے والے مال سے مراد خاص قسم کا مال ہے جس کا تعلق مرنے کے بعد اور دفن ہونے سے پہلے میت کےساتھ رہتا ہے یعنی تجہیز و تکفین،  غسل اور تدفین وغیرہ کے اَخراجات اور جب اُسے دفن کردیا جاتا ہے تو اب مکمل طور پر اُس کا تعلق مال سے بھی ختم ہوجاتا ہے۔ ‘‘  (3) 
 عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ عرب میں یہ بات رائج تھی کہ 



________________________________
1 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق،ا لفصل الاول،۹‏ / ۲۲، تحت الحدیث: ۵۱۶۷۔
2 -   فتح الباری، کتاب الرقاق، باب سکرات الموت،۱۲‏ /  ۳۱۲، تحت الحدیث: ۶۵۱۴۔
3 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق،ا لفصل الاول،۹‏ / ۲۲، تحت الحدیث: ۵۱۶۷ ملتقطا۔