Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
213 - 662
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتکریم اور ادب واحترام نصیب فرمائے،  عاشقانِ رسول کی صحبت عطا فرمائے،  گستاخانِ رسول کی صحبت سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :104 
 	مَیِّت کے ساتھ قبر تک جانے والی تین چیزیں 
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَتْبَعُ الْمَیِّتَ ثَلَاثَۃٌ: اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَعَمَلُہُ،  فَیَرْجِعُ اِثْنَانِ وَیَبْقٰی وَاحِدٌ، یَرْجِعُ اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَیَبْقٰی عَمَلُہُ.  (1) 
	ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا: ’’ میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں ،  گھر والے ،   مال اور اس کاعمل،  پس دو چیزیں یعنی اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس لوٹ آتے ہیں اور ایک چیز یعنی اس کا  عمل اس کے ساتھ باقی رہتاہے۔ ‘‘ 
دو بے وفا اور ایک وفادار ساتھی:
مذکورہ حدیث پاک میں اُن تین چیزوں کو بیان کیا گیا ہے جن کا تعلق انسان کے ساتھ اس کی زندگی میں ہوتا ہے لیکن ان تینوں میں سے دو یعنی مال اور گھر والے بے وفا اورساتھ چھوڑ جانے والےاور فقط ایک یعنی عمل وفادار اور قبر میں ساتھ جانے والا ہے۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ بعد مرنے قبر تک تین چیزیں ساتھ جاتی ہیں ۔ دو بے وفا جو مردے کو چھوڑ کر لوٹ آتی ہیں ایک وفادار جو ساتھ رہتی ہے۔ ‘‘  (2) 
گھر والوں میں کون شامل ہے؟ 
حدیث پاک میں سب سے پہلے گھروالوں کا ذکر ہے کہ وہ بھی قبر تک میت کے ساتھ جاتے ہیں ۔



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الزھد  و الرقا ئق، ص۱۵۸۳، حدیث: ۲۹۶۰ بتقدم وتاخر۔
2 -   مرآۃالمناجیح،۷‏ / ۱۰۔