مدنی گلدستہ
”عَشَرَۂ مُبَشَّرَہ“ کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) نماز ِتہجد اداکرنا حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت ہے۔
(2) سركار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتہجد کی نماز میں طویل قیام فرماتے تھے۔
(3) نماز میں امام کی مخالفت کرنا بُرا فعل ہے اور بسا اَوقات اس سے نماز بھی فاسد ہوجاتی ہے۔
(4) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نماز وغیرنماز دونوں حالتوں میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حد درجہ ادب واحترام وتعظیم وتکریم کیا کرتے تھے۔
(5) علمائے کرام واکابرینِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا ادب واحترام کرنا چاہیے۔
(6) نماز میں اگر قیام کرنا دشوار ہوجائے تو بیٹھنا جائز ہے۔
(7) فرض نمازوں کے علاوہ دیگر نفل نمازوں کی جماعت بھی جائز ہے۔
(8) دل میں بُرا وسوسہ آنے سے انسان گناہ گار نہیں ہوتا جب تک کہ اسے عملی جامہ نہ پہنائے۔
(9) اپنے دینی اور مسلمان بھائی سے اس کے متعلق ایسی بات پوچھنے میں کوئی حرج نہیں جس سے اس کے متعلق کوئی اِبہام دُور ہوجائے۔
(10) نماز میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاادب واحترام کرنا، تعظیم وتکریم کرنا عینِ ایمان اور نماز کی معراج ہے، ان دونوں باتوں سے نماز میں کسی بھی قسم کا کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، یہ مبارک عقیدہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے عظام اور تمام اُمَّت مسلمہ کا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں تہجد کی نماز پڑھنے اور عبادت کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حقیقی محبت عطا فرمائے، نماز وغیرنماز دونوں میں آپ صَلَّی اللہُ