Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
211 - 662
اس حدیث پاک سے بھی صراحتاً معلوم ہوا کہ نماز میں موجود صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا خیال اور توجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف تھی اور سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم کرتے ہوئے اپنی جگہ سے ہٹنے کا ارادہ کیا۔
تیسری حدیث مبارکہ:
اُمّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی تو حضرت سَیِّدُنَا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نماز کی اطلاع دینے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے،  توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں ۔ ‘‘  حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’ میں نے عرض کیا: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابوبکر بڑے رقیق القلب (نرم دل)  ہیں آپ کی جگہ کھڑے ہوتے ہی ان پر رقت طاری ہو جائے گی اور لوگوں کوکچھ سنائی نہ دے گا۔بہترہے کہ آپ حضرت سَیِّدُنَا عمربن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کونماز پڑھانے کاحکم فرمائیں ۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر ارشاد فرمایا: ’’ جاؤ ا بوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں ۔ ‘‘  بہرحال بعدازاں امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نماز پڑھائی،  اسی دوران آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مرض کی شدت میں کچھ کمی واقع ہوئی تو آپ دو اَصحاب کے ساتھ اپنے حجرۂ مبارکہ سے باہر تشریف لائے،  سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جیسے ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا تو اپنی جگہ چھوڑ کر پیچھے ہٹنے لگے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اشارے سے منع فرمادیا۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے پہلو میں تشریف فرماہوگئے۔ (1) 
اس حدیث پاک سے بھی صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں موجود صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور خود سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا خیال اور توجہ نماز میں ہی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف تھی اور انہوں نے نماز میں ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتکریم کرتے ہوئے جگہ چھوڑی۔



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الاذان، باب الرجل یاتم باالامام۔۔۔الخ، ۱‏ / ۲۵۴، حدیث:  ۷۱۳  بتغیر۔