Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
210 - 662
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھ لیااور اپنی جگہ چھوڑنے لگے لیکن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں اِشارے سے منع فرمایاکہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہلیں ،  وہیں کھڑے رہیں ۔ اس پر انہوں نے ہاتھ بلند کیے اور ربّ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں شکر ادا کیا۔ پھر آپ پیچھے ہٹے یہاں تک کہ صف کے برابر کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآگے تشریف لے گئے اورنماز پڑھائی۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز سے فارغ ہوئے تو سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے استفسار فرمایا:  ’’ اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اپنی جگہ ٹھہرنے کا حکم دیا تھا تو تم پیچھے کیوں ہٹے؟  ‘‘  عرض کیا:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے یہ رَوا نہیں کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آگے نماز پڑھائے۔ ‘‘  (1) 
اس حدیث پاک سے صراحتاً ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں موجود تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا خیال اور توجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف گئی اور انہوں نے آپ کی تعظیم کی خاطر جگہ چھوڑی،  بعد اَزاں سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بھی توجہ اور خیال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف گیا اور انہوں نے بھی اپنی جگہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم کی خاطر چھوڑدی۔
دوسری حدیث مبارکہ:
حضرت سَیِّدُنَا مُغِیرہ بن شُعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر ایک جگہ شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی اِقتداء میں نمازِ فجر ادا کررہے تھے،  ایک رکعت مکمل ہوچکی تھی۔ جب سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی موجودگی کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اشارے سے منع فرمادیا۔ سَیِّدُنَا  عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نماز جاری رکھی اور دوسری رکعت مکمل کرکے سلام پھیر دیا،  سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہوگئے اور اپنی نماز کو مکمل فرمایا۔ (2)  



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الاذان، باب من دخل لیؤم الناس۔۔۔الخ، ۱‏ / ۲۴۴، حدیث:  ۶۸۴۔
2 -   مسلم، کتاب الطھارۃ، باب المسح علی الناصیۃ العمامۃ، ص۱۶۰، حدیث:  ۲۷۴ملخصا۔