Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
209 - 662
تین ایمان افروز احادیث مبارکہ
واضح رہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ایک کثیر تعداد ہے جنہوں نے اپنی حیاتِ طیبہ کی کئی نمازیں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتداء میں ادا کیں ،  اور یہ تمام حضرات نماز میں اپنی توجہ اور خیال رسولِ اکرم،  نورِمُجَسَّم،  شاہِ بنی آدَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کی طرف رکھا کرتے تھے،  یہی وجہ ہے کہ آج ہم تک رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نمازوں کا ایک ایک مبارک فعل بعینہ ویسا ہی پہنچا ہے جیسا آپ نے ادا فرمایا کیونکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آپ کی ہرہرادا کو بغور دیکھا کرتے تھے اور اسے یاد رکھا کرتے تھے،  نیز دیگر نئے مسلمانوں کو اس کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ ذخیرۂ احادیث میں ایسی کثیر احادیث موجود ہیں جن میں اس بات کا بیان ہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا خیال نماز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک ذات کی طرف ہوتا تھا اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز میں بھی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام وتعظیم وتکریم کیا کرتے تھے۔تین احادیث مبارکہ پیشِ خدمت ہیں : 
پہلی حدیث مبارکہ:
حضرت سَیِّدُنَا سہل بن ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبنی عَمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے،  جب نماز کا وقت ہوا تو مؤذن امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس آیا اور عرض کی کہ  ’’ حضور! میں اقامت کہوں تو آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟   ‘‘ فرمایا: ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ چنانچہ سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جماعت کروائی،  دورانِ نماز رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لے آئے۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصفوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آکر کھڑے ہوگئے،  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے ہاتھ پر ہاتھ مار کر سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو مُتَوَجِّہ کیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لاچکے ہیں لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنماز میں ایسے منہمک ہوتے تھے کہ اِدھر اُدھر توجہ ہی نہ فرماتے۔ پس جب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے زیادہ آواز پیدا کی تو انہوں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی