(۳) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا یہ مبارک عقیدہ تھا کہ نماز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنے سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، جبھی تو سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی توجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی طرف لگی ہوئی تھی۔
(۴) نماز میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی طرف توجہ کرنا کوئی معیوب بات نہیں بلکہ نماز کی معراج اور عینِ ایمان ہے، کیونکہ اگر یہ کوئی معیوب بات ہوتی تو سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جیسے جلیل القدر صحابی کبھی بھی ایسا نہ فرماتے۔
(۵) جس طرح بیرونِ نماز رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام اور تعظیم وتکریم ضروری ہے ویسے ہی دورانِ نماز بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام اورتعظیم وتکریم بہت ضروری ہے۔
(۶) نماز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتکریم کرنے سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے ہمیں یہ عظیم تحفہ نماز بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طفیل ملا ہے، نیز اگر اس سے کوئی خلل واقع ہوتا تو سَیِّدُنَا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکبھی بھی ایسا نہ فرماتے۔
(۷) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے کرام، محدثین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سب کا یہ مبارک عقیدہ ہے کہ نماز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام اورتعظیم وتکریم کرنا عینِ ایمان اور شریعت کے مطابق ہے۔ کیونکہ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا شمار بڑے فقہاء صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں ہوتاہے، کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کے شاگرد تھے، پھر ان کے بھی کئی شاگرد تھے، سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اس حدیث مبارکہ کو ہزاروں محدثینِ کرام نے بیان کیا لیکن کسی ایک نے بھی یہ نہ کہا کہ نماز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنا یا ان کا ادب واحترام اور تعظیم وتکریم کرناغلط ہے، بلکہ اس بات کی صراحت کی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا یہ فعل رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ادب کی وجہ سے تھا۔