Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
207 - 662
 سے آپ کے اصحاب نے پوچھا کہ اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اور پھر انہوں نے آپ کی بات کو سمجھ لیا،  نیز سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بھی انہیں سوال کرنے سے منع نہ کیا۔ (1) 
نماز میں رسول اللہکا خیال اور ادب واحترام
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں راویٔ حدیث یعنی حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے حوالے سے درج ذیل دو باتیں نہایت ہی ایمان افروز ہیں :
 (۱) پہلی بات تو یہ کہ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنماز ادا کررہے ہیں ،  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہیں ،  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عبادت کررہے ہیں ، مگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاخیال اور توجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ مبارکہ کی طرف لگے ہوئے تھے کہ ہوسکتا ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمابھی رکوع میں تشریف لے جائیں یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھک گئے اور آپ کے دل میں قیام چھوڑ کر بیٹھنے کا خیال آیا۔
 (۲)  دوسری بات یہ کہ طویل قیام اور تھکاوٹ کے سبب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دل میں قیام چھوڑ کر بیٹھ جانے کا خیال پیدا ہوا جسے آپ نے بُرا خیال تصور کیا مگر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ادب واحترام اور تعظیم کی خاطراُسے عملی جامہ نہ پہنایا۔
علم وحکمت کے مدنی پھول:
مذکورہ بالا دونوں ایمان افروز باتوں سے علم وحکمت کے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:
 (۱)  نماز میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال دل میں آنے اور اپنی توجہ کو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف لگادینے سے نماز میں کوئی فرق نہیں آتا۔
 (۲)  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز میں بھی اپنی توجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی طرف لگائے رکھتے تھے۔



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱‏ / ۳۲۲، تحت الحدیث: ۱۰۳۔