قیام اور کبھی کثرتِ رکوع و سجود افضل ہے اور آدمی کا ذوق و شوق جس جانب زیادہ مائل ہو وہ چیز اس کے لیے افضل ہے۔)
حدیث پاک سے ماخوذ چند مدنی پھول
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک کے تحت شارحین نے جہاں فقہی اِعتبار سے بحث کی ہے، وہیں اس حدیث سے کئی مدنی پھول بھی اخذ فرمائے ہیں ، چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں :
٭……علماء واکابرین کا ادب واحترام: عَلَّامَہ اَبُوْ زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ علماء و اکابرین کا ادب کرنا چاہیے اور جب تک وہ خلافِ شرع کام نہ کریں قولی اور فعلی طور پر ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔
٭……نفل کی جماعت اور نماز طویل کرنے کا جواز: اس حدیث پاک میں فرض نمازوں کے علاوہ دیگر نمازوں میں جماعت کے جائز ہونے اور رات میں نماز کو طویل کرنے کے مستحب ہونے کا ثبوت ہے۔ (1)
٭……فقط غلط وسوسے پر پکڑ نہیں : علامہ سید محموداحمدرضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازِ تہجد میں حضور قیام کو لمبا کرتے تھے ، (نیز یہ بھی پتا چلاکہ) جو غلط وسوسہ پیدا ہو اور وہ عملی جامہ نہ پہنے تو آدمی گناہ گار نہیں ہوتا، حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہوامگر اللہنے انہیں بچالیا۔ (2)
٭……اِمام کی مخالفت بُری ہے: عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں امام کے کسی فعل کے خلاف کرنا بُرا کام ہے۔
٭……اِبہام کی وضاحت طلب کرنے کا جواز: یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کے قول یا فعل میں کچھ ابہام ہو تو اس کے بارے میں دریافت کرنا جائز ہے، اسی لیے حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ
________________________________
1 - شرح مسلم للنووی کتاب صلوۃ المسافرین ، باب استحباب تطویل القراءۃ۔۔۔ الخ ، ۳ / ۶۳ ، الجزء السادس۔
2 - فیوض الباری،۵ / ۱۷۔