Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
205 - 662
بیداری کے متعلق جو روایات مروی ہیں ان میں تہائی رات کا ذکر ہے اور اس بات کی بھی وضاحت موجود ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام گیارہ 11 رکعت سے زائد نہیں پڑھتے تھے تو تہائی رات میں گیارہ رکعت ادا کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم طویل قیام فرماتے تھے۔ ‘‘  (1) 
ایک اہم مسئلے کی وضاحت:
واضح رہے کہ جماعت میں قراءت مسنونہ پر زیادتی نہ کرنے کا حکم ہے،  خصوصاً اس صورت میں جبکہ مقتدیوں پر زیادت گراں اور شاق ہو۔ چنانچہ صَدْرُالشَّرِیْعَہ،  بَدرُالطَّرِیْقَہ،  حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’  (امام کو چاہیے کہ) قراء ت مسنونہ پر زیادت نہ کرے،  جب کہ مقتدیوں پر گراں ہو اور شاق نہ ہو تو زیادتِ قلیلہ  (یعنی تھوڑا سا زیادہ کرنے ) میں حرج نہیں ۔ ‘‘  (2)  
دونوں اقسام کی احادیث میں تطبیق:
امام ابو جعفر احمد بن سلامہ طحاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث حضرت سَیِّدُنَا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ‏لیے رکوع و سجدہ کرے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کا ایک درجہ بلند کرے اور اس کا ایک گناہ مٹادے اور اگر رکوع و سجود کے ساتھ ساتھ وہ لمبا قیام بھی کرے تو یہ زیادہ افضل ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے اُس لمبے قیام کی وجہ سے اور زیادہ ثواب عطا فرمائے۔ حضرت سَیِّدُنَا ابو ذَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث کو اس معنی پر محمول کرنا زیادہ اَولیٰ ہے تاکہ وہ دوسری اَحادیث سے مُتَضَاد نہ ہو ۔ (3) 
عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ اس تمام بحث کا حاصل یہ ظاہر ہوا کہ یہ فضیلت اَشخاص و اَحوال کے مختلف ہونے سے بدل جاتی ہے۔ ‘‘  (4)   (یعنی  کبھی طولِ 



________________________________
1 -   فتح الباری، کتاب التھجد، باب طول القیام فی صلاۃ اللیل،۴ ‏ /  ۱۷، تحت الحدیث: ۱۱۳۵۔
2 -   بہارشریعت، ۱‏ / ۵۴۷، حصہ۳۔
3 -   شرح بخاری لابن بطال، باب طول القیام فی صلاۃ اللیل ، ۳‏ / ۱۲۵۔
4 -   ارشادالساری، کتاب التھجد، باب طول القیام فی صلوۃ الیل ،۳‏ / ۲۰۸،تحت الحدیث: ۱۱۳۵۔