ایک شخص نے کہا : ’’ میں جانتا ہوں ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ اگر میں اسے جانتا تو ضرور رکوع و سجود کو طویل کرنے کا حکم دیتاکیونکہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر اور کندھوں پر آجاتے ہیں اور وہ جب بھی رکوع و سجدہ کرتا ہے تو اس کے گناہ گِر جاتے ہیں ۔ ‘‘ (1)
طویل قیام کی افضلیت پر تین احادیث:
(1) حضرت سَیِّدُنَا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کیا گیا کہ ’’ کونسی نماز افضل ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جس میں قیام لمبا ہو۔ ‘‘ (2)
(2) حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بِنْ حُبْشِی خَثْعَمِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صاحب لَولَاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دریافت کیا گیاکہ ’’ کونسی نماز افضل ہے؟ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ طویل قیام والی نماز۔ ‘‘ (3)
(3) حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے نماز ادا کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک رکعت میں سورۂ بقرہ، سورۂ نساء اور سورۂ آل عمران تلاوت فرمائی۔ (4)
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاس حدیث پاک کے متعلق فرماتے ہیں ’’ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےیہ سب کچھ دو یا دو سے زائد گھنٹوں میں ادا فرمایا ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے ساری رات شب بیداری فرمائی ہو۔بہر حال حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام عادتًا جو عبادت فرماتے تھے وہ اس کے برعکس تھی کیونکہ حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی شب
________________________________
1 - شرح معانی الاثار، کتاب الصلاۃ، باب الافضل فی صلاۃ التطوع ۔۔۔الخ،۱ / ۶۱۰،حدیث: ۲۶۶۷۔
2 - مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین و قصرھا، باب افضل الصلاۃ طول القنوت، ص۳۸۰، حدیث: ۷۵۶۔
3 - ابو داود، کتاب التطوع، باب افتتاح صلاۃ اللیل برکعتین،۲ / ۵۳،حدیث: ۱۳۲۵۔
4 - مسلم،کتاب صلوۃ المسافرین، باب استحباب تطویل القراۃ فی صلوۃ اللیل، ص۳۹۱، حدیث: ۷۷۲ ملخصا۔