Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
203 - 662
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نماز میں بیٹھنے کو بری بات قرار دینا اس وجہ سے تھا کہ یہ بات ادب کے خلاف تھی۔ ‘‘  (1) 
طویل قیام افضل یا کثرت رکوع و سجود؟ 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نوافل میں طویل قیام افضل ہے یارکوع وسجود کی کثرت؟  اس سلسلے میں دونوں طرح کی روایات موجود ہیں ،  یہی وجہ ہے کہ بعض علماء کے نزدیک طویل قیام افضل ہے کہ بندہ اگرچہ کم رکعتیں پڑھے مگر ان میں لمبی قراءت کرے،  طویل قیام کرے اور بعض علماء کے نزدیک کثرت رکوع وسجوداَفضل کہ بندہ اگرچہ قراءت مختصر کرے مگر زیادہ سے زیادہ رکعات پڑھے کہ جتنی رکعتیں زیادہ ہوں گی اتنے  رکوع وسجدے زیادہ ہوں گے۔
کثرتِ رکوع وسجود کی اَفضلیت پر تین اَحادیث:
 (1) حضرت سَیِّدُنَا ثوبان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  ’’ اَعمال میں سب سے افضل عمل رکوع و سجود کی کثرت کرنا ہے۔ ‘‘  (2) 
 (2) حضرت سَیِّدُنَامخارق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،  فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدُنَا ابو ذَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھا کہ آپ طویل قیام نہ کرتے بلکہ رکوع وسجود کی کثرت کرتے تھے۔ وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا  کہ  ’’ جس نے اچھی طرح رکوع کیا اور اچھی طرح سجدہ کیا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُس کا ایک درجہ بلند فرماتا اور اُس کا ایک گناہ مٹادیتا ہے۔ ‘‘  (3) 
 (3) حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک نوجوان کو نماز میں طویل قیام کرتے  ہوئے دیکھا،  جب وہ نماز سے فارغ ہوکر پلٹا تو آپ نے فرمایا : ’’ اِسے کون جانتا ہے؟   ‘‘ 



________________________________
1 -   عمدۃ القاری، کتاب التھجد، باب طول القیام فی صلوۃ الیل ،۵ ‏ / ۴۶۸، تحت الحدیث: ۱۱۳۵۔
2 -   عمدۃ القاری، کتاب التھجد، باب طول الصلاۃ فی قیام اللیل، ۵‏ / ۴۶۸، تحت الحدیث: ۱۱۳۵۔
3 -   شرح معانی الاثار، کتاب الصلاۃ، باب الافضل فی صلاۃ التطوع ھل طول القیام ۔۔۔الخ،۱‏ / ۶۰۹،حدیث: ۲۶۶۶۔