اور اپنے اِس اِرادے کو بُرا خیال کیا جبکہ آپ نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اقتداء میں جو نماز پڑھی وہ نفل نماز یعنی نمازِتہجدتھی اور نفل میں بیٹھنا جائز ہے تو پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک جائز کام کے اِرادے کو بُراخیال کیوں کہا؟ شارِحینِ حدیث نے اس کی کئی وُجُوہات بیان فرمائی ہیں ۔چنانچہ،
عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ ہر چند کہ نفلی نماز میں بیٹھنا جائز ہے اس کے باوجودحضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نماز میں بیٹھنے کو بُرا خیال قرار دینا محض اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَدَب کے پیش نظرتھا کیوں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے رہیں اورعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیٹھ جائیں یہ امر اَدب کے خلاف تھا اور اِس میں ظاہری اِعتبار سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مخالفت بھی تھی۔ ‘‘ (1)
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ امام کی مخالفت بہت بری بات ہے جبھی تو حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے امام کی مخالفت میں آنے والے خیال کو بُرا فرمایا (اور اگر امام حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہوں تو یہ اور بھی زیادہ برا ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مخالفت کرنے سے ربّ عَزَّ وَجَلَّنے منع فرمایا ہے اور اس پر وعید ہے۔ چنانچہ) اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۶۳) (پ:۱۸، النور: ۶۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب پڑے۔ (2)
عَلَّامَہ اَبُوْ زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ محض رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ادب کے پیش نظر نماز میں نہیں بیٹھے۔ ‘‘ (3)
________________________________
1 - ارشادالساری، کتاب التھجد، باب طول القیام فی صلوۃ الیل ،۳ / ۲۰۷،تحت الحدیث: ۱۱۳۵۔
2 - ارشادالساری، کتاب التھجد، باب طول القیام فی صلوۃ الیل ،۳ / ۲۰۷،تحت الحدیث: ۱۱۳۵۔
3 - شرح مسلم للنووی کتاب صلوۃ المسافرین ، باب استحباب تطویل القراءۃ۔۔۔ الخ ، ۳ / ۶۳ ، الجزء السادس۔