حدیث نمبر :103
نَمَازِ تَہَجُّد میں طویل قِیام کرنا
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃً، فَاَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی ہَمَمْتُ بِاَمْرِسُوْ ءٍ، قِیْلَ وَمَا ہَمَمْتَ بِہٖ؟ قَالَ: ہَمَمْتُ اَنْ اَجْلِسَ وَاَدَعَہُ. (1)
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کی، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بہت ہی طویل قیام فرمایا یہاں تک کہ میرے دل میں ایک بُرا خیال آیا۔ ‘‘ پوچھا گیا کہ کیا بُرا خیال آیا؟ تو فرمایا: ’’ میں نے ارادہ کیا کہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قیام میں چھوڑ کر بیٹھ جاؤں ۔ ‘‘
بیٹھ جانے کے اِرادے کی وجہ:
فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تندرست قوی جوان تھے اور حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیوانے اور اتباع کے شوقین تھے۔ پھر انہوں نے بیٹھنے کا ارادہ اسی وقت کیا ہوگا جبکہ وہ بہت تھک گئے ہوں گے اتنا کہ کھڑا رہنا دشوار ہوگیا ہوگا۔اوریہ اسی وقت ہوگا جبکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قیام بہت طویل ہو۔ ‘‘ (2)
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ نمازِتہجدتھی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عام طورپر جتنا قیام فرماتے اُس سے بہت زیادہ طویل قیام آپ نے اس نمازِتہجد میں فرمایا۔ ‘‘ (3)
قلبی اِرادے کو بُرا سمجھنے کی وجوہات:
حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُجب تھک گئے تو بیٹھنے کا اِرادہ کیا لیکن بیٹھے نہیں
________________________________
1 - بخاری، کتاب التھجد، باب طول القیام فی صلوۃ الیل ، ۱ / ۳۸۶، حدیث: ۱۱۳۵ ۔
2 - نزہۃ القاری، ۲ / ۶۷۹بتصرف قلیل۔
3 - دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱ / ۳۲۱، تحت الحدیث: ۱۰۳۔