رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ ان کے سوا باقی اَرکان رکوع سجدہ وغیرہ برابر ہوتے تھے نہ بہت دراز نہ بہت مختصر بلکہ درمیانے، یہ عام (یعنی فرض) نمازوں کا ذکر ہے، (جبکہ) سورج گرہن کی (نفل) نماز میں رکوع سجدہ، قیام کے برابر تھے۔ ‘‘ (1)
مدنی گلدستہ
’’ چل مدینہ ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ عظیم سعادت حاصل تھی کہ منافقین کے متعلق آپ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراز تھے۔
(2) نماز تہجد کی ادائیگی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظیم سنت ہے۔
(3) نوافل میں اقتداء کرنا اور نماز تہجد کو طویل کرنا دونوں سنت سے ثابت ہیں ۔
(4) قرآنی سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے اس لیے فرض نماز میں خلاف ترتیب سورتوں کی تلاوت کرنا مکروہ تحریمی ہے البتہ سجدۂ سہو کا حکم نہ ہوگا کہ یہ قراءت کے واجبات میں سے ہے نماز کے نہیں ۔
(5) نوافل میں خلافِ ترتیب قراءت کرنا جائز ہے کہ یہ نص سے ثابت ہے۔
(6) چھوٹے بچوں کو ضرورتِ تعلیم کی وجہ سے خلافِ ترتیب پڑھانا جائز ہے۔
(7) رکوع میں سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم اور سجدے میں سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی پڑھنا سنت ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافل کی کثرت کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے، ہمیں نماز تہجد کی ادائیگی جیسی عظیم سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح، ۲ / ۶۹۔