قبول کی وہ نبی ہمارے سامنے اُسی ایک دو یازیادہ کے ساتھ پیش ہوئے۔ معلوم ہوا کہ اُمَّت سے مراد اُمَّت اجابت ہے۔وہاں ایک بہت بڑی جماعت تھی۔یعنی اُس جماعت کی کثرت کا یہ حال تھا کہ آگے داہنے بائیں ہر طرف اِس کثرت سے آدمی تھے کہ تاحدِّ نظر آدمی ہی آدمی تھے۔ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی ساری اُمَّت کو ملاحظہ فرمایا، حضور سے کوئی شخص پوشیدہ نہیں ۔ ‘‘ (1)
(2) سترہزار 70000کا بِلاحساب جنت میں داخلہ:
جب سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت کو ملاحظہ فرمایا تو کہا گیا کہ اِن کے ساتھ ستر ہزار 70000افراد ایسے ہیں جو بِلاحساب و عذاب جنت میں داخل ہوں گے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”اِس میں دو اِحتمال ہیں ایک یہ کہ اُسی جماعت میں یہ لوگ بھی ہیں جو بغیر حساب جنت میں جائیں گے۔ دوسرے یہ کہ اُن کے علاوہ ستر ہزار وہ بھی ہیں جو بغیر حساب جنتی ہیں ۔ پہلا اِحتمال زیادہ قوی ہے، ستر ہزار سے مراد بے شمار لوگ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ خاص تعداد ہی مُراد ہو۔ یعنی ساری اُمَّت میں ستر ہزار بے حساب جنتی ہیں ۔ اِس دوسرے اِحتمال کی تائید اِس روایت سے ہوتی ہے کہ فرمایا: اُن ستر ہزار میں سے ہر شخص کے ساتھ سترستر ہزار ہوں گے۔ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں سب کا حساب نہ ہوگا، بعض لوگ حساب سے مستثنی ٰبھی ہوں گے۔ ‘‘ (2)
(3) بِلاحساب جنت میں داخل ہونے والوں کی خصوصیات :
حدیثِ مذکور میں جنتیوں کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں : (۱) نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں نہ کراتے ہیں ۔حضرت سَیِّدُنَاابو الحسن قابِسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ یہاں وہ جھاڑ پھونک مراد ہے جو لوگ زمانہ ٔ جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۔ ورنہ وہ دم وتعویذ جو کلامِ الٰہی پرمُشتمل ہو وہ شارِع عَلَیْہِ السَّلَامنے خود بھی کیا اور اُمَّت کو بھی اِس کی تعلیم دی اور ایسا دم وتعویذمقامِ تو کل سے نہیں نکالتا۔ ‘‘ (۲) بدفالی نہیں لیتے۔ یعنی وہ
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۰۹۔۱۱۰ ملتقطا۔
2 - مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۱۰ملتقطا۔