Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
199 - 662
الْعَظِیْماور سجدے میں کہو: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی۔ ‘‘  (1) 
ایک لطیف نکتہ:
یہاں ایک لطیف نکتہ قابل ذکر ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم رکوع کے ساتھ اور سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی  کو سجدے کے ساتھ خاص فرمایا اس کا عکس نہ فرمایا۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیاس کی توجیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’ لفظ  ’’ اعلیٰ ‘‘  لفظ ’’ عظیم ‘‘ سے زیادہ بلیغ ہے اور رکوع کے مقابلے میں سجدے میں زیادہ تواضع و انکساری ہے۔ اس ‏لیے عاجزی میں جو لفظ زیادہ بلیغ ہے اُسے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےسجدے کے ‏لیے مُعَیَّن فرمادیا اور سجدے میں بندہ اپنے ربّ کا زیادہ قرب پاتا ہے اس لیے اس میں اعلیٰ تسبیح پڑھنا مستحب ہے۔ ‘‘  (2) 
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے رکوع و سجود کے اَذکار کوئی اور تھے ۔چنانچہ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ’’ معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں کے نزول سے پہلےمسلمان رکوع وسجدوں میں کوئی اور ذکر کرتے تھے۔ ‘‘  (3) 
ایک اہم وضاحت:
مذکورہ حدیث مبارکہ میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طویل رکوع وسجود کا ذکر ہے جبکہ بعض احادیث میں اس بات کا بیان ہے کہ آپ کے رکوع وسجود طویل نہ ہوتے تھے۔دونوں طرح کی احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ جن احادیث میں رکوع وسجود کی طوالت کابیان ہے ان میں نوافل کی نماز مراد ہے اور جن میں طویل نہ ہونے کا بیان ہے ان میں فرض نماز مراد ہے۔ چنانچہ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ 



________________________________
1 -   مرآۃ المناجیح، ۲ ‏ / ۷۴۔
2 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ، باب الرکوع،۲‏ / ۴۰۱، تحت الحدیث: ۸۷۹۔
3 -   مرآۃ المناجیح، ۲ ‏ / ۷۴۔