آیت پڑھے جس میں جہنم کا ذکر ہو تووہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگے اور جس آیت میں جنت کا ذکر ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے جنت کا سوال کرےاور صاحب محیط اس حدیث پاک کی بناء پر اس عمل کو مستحب کہتے ہیں ۔ اور اگر نفل جماعت کے ساتھ ادا کیے جارہے ہیں تو امام و مقتدی دونوں کے لیےایسا کرنا مکروہ ہے۔ امام کے لیے اس وجہ سے مکروہ ہے کہ اس سے نماز طویل ہوگی اور نمازیوں پر یہ شاق ہوگا اور مقتدی کے لیے اس بناء پر مکروہ ہے کہ اسے تو امام کی قراءت سننے اور تلاوت کےوقت خاموش رہنے کا حکم ہے ۔ نیز اگر کوئی شخص اِنفرادی طورپر فرض نماز ادا کررہا ہے تواس کے لیے بھی قراءت کے درمیان میں تسبیح، تحمید اور تعوذ کرنا مکروہ ِ (تنزیہی وخلافِ اَولیٰ) ہے کیونکہ اس سےتلاوت قرآن پاک کا تسلسل منقطع ہوگا اور یہ مکروہ ہے۔ نفل نماز میں یہ نص سے ثابت ہے اس لیے وہاں یہ حکم نہ ہوگا۔ (1)
تسبیحاتِ رکوع و سجودکی قرآن سے مُوافقت:
حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب رکوع میں جاتے تو”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ“پڑھتے اور جب سجدے میں جاتے تو”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی“ پڑھتے۔ رکوع و سجود کی یہ تسبیحات بھی قرآنِ کریم کی موافقت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت کو عطا فرمائیں ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا عُقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں : ’’ جب یہ آیت نازل ہوئی: (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ (۷۴) ) (پ۲۷، الواقعہ: ۷۴) تو رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اسے اپنے رکوع میں شامل کرلو اور جب یہ آیت نازل ہوئی: (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ (۱) ) (پ۳۰، اعلی: ۱) نازل ہوئی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اسے اپنے سجدے میں شامل کر لو۔ ‘‘ (2)
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْحَنَّان اس کے تحت فرماتے ہیں : ’’ (رکوع یا سجدے میں شامل کرنے سے مراد یہ ہے) یعنی رکوع میں کہو:سُبْحٰنَ رَبِّیَ
________________________________
1 - شرح سنن ابی داود للعینی، کتاب الصلاۃ، باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ،۴ / ۷۸، تحت الحدیث: ۸۴۸۔
2 - ابو داود، کتاب الصلاۃ، باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ،۱ / ۳۳۰،حدیث: ۸۶۹۔