Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
197 - 662
 واجباتِ قراءت میں سے ہے واجباتِ نماز میں سے نہیں ۔البتہ کسی نے جان بوجھ کر خلافِ ترتیب پڑھا تو گنہگار ضرور ہوگا  اور اگر بعدوالی سورت پڑھنے کا اِرادہ تھا لیکن غیر اِرادی طور پر پہلے والی سورت شروع کردی تو اب خلافِ ترتیب ہونے کے باوجود گنہگار نہ ہوگا کہ غیر اِرادی طور پر خلاف ہوا،  البتہ اب یہی سورت پڑھنا ہوگی کہ اس کو شروع کرنے سے اس کا حق ہوگیا اور اب اسے چھوڑنا قصداً چھوڑنا ہوگا۔ چھوٹے بچوں کو ضرورت تعلیم کی وجہ سے خلافِ ترتیب پڑھانا جائز ہے۔ ‘‘  (1) 
دورانِ نماز تسبیح،  تحمید اور تَعَوُّذ کا حکم:
	حدیث پاک میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ  ’’ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی ایسی آیت کی تلاوت فرماتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تسبیح بیان کرتے ، سوال ہوتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے سوال کرتے اورتَعَوُّذ ہوتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے پناہ مانگتے ۔  ‘‘ اسی طرح بعض احادیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ  ’’ جس آیت میں جنت یا دیگر نعمتوں کا تذکرہ ہوتاتو آپ بارگاہ الٰہی سےجنت اور نعمت کا سوال کرتے اور جب آیت عذاب پڑھتے یا جہنم کا ذکر ہویا پھر وعید کا ذکر ہوتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے پناہ طلب کرتے۔ ‘‘ 
واضح رہے کہ امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے نزدیک فرائض ونوافل میں دورانِ تلاوت تسبیح،  تحمید اور تَعَوُّذ کرنا مطلق جائز ہے جبکہ اَحناف اور مالکیہ کے نزدیک نوافل میں مطلق جائزہے اور فرض میں خلافِ اَولیٰ،  نیز حدیث پاک میں جس نماز کا ذکر ہے وہ بھی نفل نماز تھی۔چنانچہ مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ یہاں نفل نماز مراد ہے فرائض میں دَورانِ قراءت ٹھہرنا اور مانگنا مستحب کے خلاف ہے اگرچہ جائز ہے۔ ‘‘  (2) 
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ حدیث پاک نفل نماز پر محمول ہے۔ صاحب محیط فرماتے ہیں کہ انفرادی طورپر نفل پڑھنے والے کے لیے جائز ہے کہ جب وہ ایسی



________________________________
1 -   فتاویٰ رضویہ، ۷‏ / ۳۵۷ ملخصا۔
2 -   مرآۃ المناجیح، ۲‏ / ۷۵۔