Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
196 - 662
 کے موقع پر نمازوغیرہ بھی ہیں اگرچہ علماء نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے مگر عوام میں یہ فتویٰ نہ دیاجائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو، علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیاہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جوازپرلکھا ہے ، عوام کونمازکی طرف راغب رکھناانہیں نفرت دلانے سے کہیں بہترہوتاہے۔ ‘‘  (1) 
خلافِ ترتیب قراءت کا مسئلہ:
مذکورہ حدیث میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےپہلے سورۂ بقرہ پڑھی پھر سورۂ نساء پڑھی اس کے بعد سورۂ آلِ عمران پڑھی جبکہ قرانی ترتیب کے لحاظ سے سورۂ آلِ عمران،  سورۂ نساء سے  پہلے آتی ہے، اسی وجہ سے فقہائے کرام کے مابین یہ اختلاف واقع ہوا کہ آیا نماز میں خلافِ ترتیب قرآن پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ شوافع کے نزدیک کسی بھی مقام پر خلافِ ترتیب قرآن پڑھنا مطلقاً جائز ہےکیونکہ اس سے کسی بھی حدیث میں منع نہیں فرمایا گیا،  نیز یہ ترتیب توقیفی نہیں بلکہ اجتہادی یعنی بعد میں کی گئی ہے۔ (2) جبکہ احناف کے نزدیک فرض نماز میں خلافِ ترتیب پڑھنا مکروہ تحریمی اورنفل میں جائز ہے۔نیز احناف کے نزدیک سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے اورحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے ہے، مصحفِ عثمانی کو اُسی ترتیب پر مرتب کیا گیا جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیان فرمائی ۔  (3) 
صدر الشریعہ،  بدرالطریقہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’ ترتیب کے ساتھ قران مجید پڑھنا واجب ہے اور خلاف ترتیب پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یہ حکم فرائض کا ہے اور نوافل میں خلاف ترتیب پڑھنے کی اجازت ہے ۔ ‘‘  (4)  نماز میں خلاف ترتیب پڑھنا مکروہ تحریمی ہے مگر کسی نے بھول کر خلاف ترتیب پڑھ لیا تو اس سے سجدہ سہو واجب نہ ہوگا اور نہ ہی نماز کا اعادہ لازم ہے کہ یہ



________________________________
1 -   فتاوی رضویہ، ۷‏ / ۴۶۵، ۴۶۶۔
2 -   اکمال المعلم، کتاب صلوۃ المسافرین ، باب استحباب تطویل القراءۃ۔۔۔ الخ ،۳ ‏ / ۱۳۷، تحت الحدیث: ۲۰۴ماخوذا۔
3 -   اکمال المعلم، کتاب صلوۃ المسافرین ، باب استحباب تطویل القراءۃ۔۔۔ الخ ،۳ ‏ / ۱۳۷، تحت الحدیث: ۲۰۴ماخوذا۔
4 -   فتاویٰ امجدیہ،۱‏ / ۹۶ملخصًا۔