یہ بات جاننا مناسب ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاحذیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اقتداء میں جو نماز پڑھی وہ تہجد کی نمازتھی۔چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے جو نماز پڑھی وہ تہجد کی نماز تھی۔ مذکورہ حدیث پاک اور اس کے بعد حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی جو حدیث آرہی ہے یہ دونوں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نوافل میں اقتداء کرنا اور صلوۃ اللیل کو طویل کرنا دونوں جائز ہیں ۔ (1)
نفل کی جماعت کا حکم:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نوافل کی جماعت میں اگر امام کے سوا تین آدمی ہوں تو بلا اختلاف جائز ہے ا ورتین سے زیادہ ہوں تو مکروہ تنزیہی ، خلاف اولیٰ ہے یعنی نہ کرنا بہتر ہے لیکن کی جائے تو کوئی ناجائز و گناہ نہیں اور بعض کے نزدیک مطلقاً جائز ہے بلکہ بہت سے اَ کابرِ دین سے نوافل کی جماعت ثابت ہے اور متأخرین فقہاء نے لوگوں کی نیکیوں کی طرف رغبت کم ہونے کی وجہ سے نوافل کی جماعت کے جواز ہی کا فتویٰ دیا ہے کہ عوام کو نمازسے دُورکرنے سے زیادہ بہتریہ ہے کہ انہیں نمازکی طرف راغب رکھاجائے اور اس سے بالکل منع نہ کیا جائے ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنارشاد فرماتے ہیں : ’’ نفل غیرتراویح میں امام کے سواتین آدمیوں تک تواجازت ہے ہی چارکی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہ جس کاحاصل خلاف اولیٰ ہے نہ کہ گناہ حرام۔ کَمَابَیَّنَّاہُ فِیْ فَتَاوَانَا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاویٰ میں بیان کیا) مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے اوربہت اکابردین سے جماعت نوافل بِالتَّدَاعِی ثابت ہے اورعوام فعلِ خیرسے منع نہ کیے جائیں گے۔ علمائے اُمَّت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایاہے درمختارمیں ہے: بحرعوام کو تکبیرات اورنوافل سے کبھی بھی منع نہ کیاجائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے۔حدیقہ ندیہ میں ہے:اسی قبیل سے نمازغائب کاجماعت کے ساتھ اداکرنااورلیلۃ القدر
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱ / ۳۱۹، تحت الحدیث: ۱۰۲۔