Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
194 - 662
نے آپ کو مدائن کا حاکم بنایا۔ ایک دن سَیِّدُنَا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سب سے یوچھا کہ آج اپنی اپنی تمنا بیان کرو۔پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی خواہش بیان کرتے ہوئے فرمایا:  ’’ میری خواہش یہ ہے کہ مجھے ابو عُبَیْدَہ بن جَراح،  مُعَاذ بن جَبَل اور حُذَیْفَہ بن یَمَان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ جیسے لوگ مل جائیں تاکہ میں انہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اطاعت میں استعمال کروں ۔ ‘‘   (یعنی انہیں مختلف علاقوں کا حاکم بنادوں ۔)  سَیِّدُنَا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی احادیث مبارکہ کی تعداد سو 100سے زائد ہے،  ان میں سے بارہ12 متفق علیہ ہیں یعنی جنہیں سَیِّدُنَا امام بخاری وامام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا دونوں نے روایت کیا ہے۔ان کے علاوہ آٹھ8 اَحادیث فقط امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اور سترہ17اَحادیث فقط امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کی ہیں ۔آپ کا وصال 36 سنِ ہجری میں امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے وِصالِ پُرملال کے چالیس40 دن بعد مدینہ منورہ میں ہوا۔ (1)  
حبیب خداکے ہمراز:
حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہمراز اس لیے کہاجاتا تھا کہ آپ منافقین کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے تھے کہ کون کون منافق ہے ؟ اور یہ معلومات آپ کے سوا کوئی نہ جانتا تھا یہاں تک کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے منافقین کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔  (2)  
نوافل میں اقتداء کرنا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں چند اہم باتوں کا بیان ہے :سب سے پہلے تو نفل نماز کی جماعت کا بیان،  اس کے بعد سورتوں کی ترتیب کا مسئلہ،  پھرنماز کے درمیان تسبیح،  حمد اور تعوذ کا بیان اور آخر میں ایک اہم وضاحت۔ حدیث پاک کی شرح میں یہ تمام مسائل ترتیب وار بیان کیے جائیں گے۔ ابتداءً



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱‏ / ۳۱۹، تحت الحدیث: ۱۰۲۔
2 -   تھذیب الاسماء واللغات،۱‏ / ۱۵۹ ۔