Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
193 - 662
 شرف حاصل کیا،  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سورۂ بقرہ شروع فرمائی،  میں نے دل میں کہا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسو 100آیات پر رکوع فرمائیں گے مگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ شاید آپ پوری سورت پڑھ کر رکوع میں جائیں گے لیکن آپ مسلسل پڑھتے رہے۔میں نے خیال کیا کہ اب آپ رکوع میں جائیں گے لیکن آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے سورۂ نِساء شروع فرما دی اور اسے مکمل پڑھا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سورۂ آلِ عمران شروع فرما دی اور اسے بھی مکمل پڑھا،  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ترتیل اور خوبی کے ساتھ پڑھ رہے تھے،  جب آپ کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں تسبیح  ہوتی تو آپ تسبیح پڑھتے  (یعنی سُبْحٰنَ اللہِ کہتے)  اور جب آپ کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں سوال  (اللہ عَزَّوَجَلَّسے مانگنے)  کا ذکر ہوتا تو آپ سوال فرماتے اور جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں تَعَوُّذْ  (یعنی پناہ مانگنے )  کا ذکر ہوتا تو آپ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے پناہ مانگتے ۔پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے رکوع فرمایا اورسُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِپڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ کا رکوع بھی قیام کے برابر ہوگیا۔ پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہکہتے ہوئے کھڑے ہوئے اور تقریبًا اتنی دیر کھڑے رہے کہ آپ کا قومہ رکوع کے برابر ہوگیاپھر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے سجدہ کیا اور سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی پڑھتے رہے آپ کا سجدہ بھی تقریبًا قیام کے برابر تھا۔
سَیِّدُنَاحذیفہ بن یمانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکا تعارف:
	آپ کا نام حذیفہ،  کنیت ابو عبداللہ اور والد کا نام حُسَیْل اَلْیَمَان ہے رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔ حضرت حذیفہ اور آپ کے والد دونوں مسلمان تھے،  دونوں غزوۂ اُحد میں حاضر ہوئے مگر آپ کے والد غلطی سے مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ حضرت سَیِّدُنَا حذیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فقیہ اور اہل فتویٰ صحابہ میں سے تھے۔ منافقین کے بارے میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراز تھے، مستقبل میں ہونے والے ظاہری اور باطنی فتنوں کے بارے میں با خبر تھے،  کفار کے خلاف جہاد میں آپ کے عظیم الشان کارنامے ہیں ۔اسلامی فتوحات میں آپ نے بہت اہم کردار ادا کیا،   بڑے بڑے علاقے آپ کے ہاتھوں پر فتح ہوئے،  الجزائر کی فتح میں بھی آپ شریک تھے۔ امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ