Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
192 - 662
اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے قرب سے دُوری کا اندیشہ ہے۔
(1)	جنت کا حجاب وہ تکلیفیں ہیں جو نیک اَعمال سے پہنچتی ہیں نہ کہ وہ تکالیف ہیں جو گناہ کرتے ہوئے بندے کو پہنچتی ہیں ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے سےمحفوظ فرمائے،  خواہشاتِ نفس پر چلنے کے انجام یعنی جہنم سے محفوظ فرمائے،  ہمیں عبادات کی مشقتیں اٹھانے اور اُن پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، نیز ان کے انجام یعنی جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :102 		
رسول اللہ کی نماز کا     اَ  نداز
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ، اَلْاَنْصَارِیْ الْمَعْرُوْف بِصَاحِبِ سِرِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا،  قَالَ:صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ،  فَافْتَتَحَ الْبَقَرَۃَ،  فَقُلْتُ یَرْکَعُ عِنْدَ الْمِائَۃِ، ثُمَّ مَضَی،  فَقُلْتُ یُصَلِّیْ بِہَا فِیْ رَکْعَۃ،  فَمَضٰی، فَقُلْتُ یَرْکَعُ بِہَا،  ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ،  فَقَرَاَہَا،  ثُمَّ افْتَتَحَ اٰلَ عِمْرَانَ فَقَرَاہَا،  یَقْرَاُ مُتَرَسِّلًا اِذَا مَرَّ بِاٰیَۃٍ فِیْہَا تَسْبِیْحٌ سَبَّحَ، اِذَا مَرَّ بِسُوَالٍ سَاَلَ،  وَاِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَکَعَ فَجَعَلَ یَقُوْلُ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ،  فَکَانَ رُکُوْعُہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ،  ثُمَّ قَامَ قِیَاماً طَوِیْلًا قَرِیْبًا مِمَّا رَکَعَ،  ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی،  فَکَانَ سُجُوْدُہُ قَرِیْبًا مِنْ قِیَامِہِ.  (1) 
ترجمہ  : حضرتِ سَیِّدُنا ابو عبد اللہ حذیفہ بن یمان انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جو کہ حضورنبی کریم  رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صاحبِ سِر یعنی ہمراز ہونے کے لقب سے معروف ہیں ،  فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نماز پڑھنے کا



________________________________
1 -   مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین، باب استحباب قراءۃ الصلوۃ، ص۳۹۱، حدیث: ۷۷۲۔